سلامتی کونسل میں کانفرنس کے دوران غزہ بارے قرارداد منظور کرائی :اسحاق ڈار
اسلام آباد: نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ فلسطین کے متعلق کانفرنس میں غزہ کے متعلق بھرپور آواز اُٹھائی اور سلامتی کونسل کانفرنس میں قرارداد منظور کرائی۔
وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ رواں سال جولائی میں پاکستان کے پاس یواین کی صدارت تھی،صدارت کے دوران مسئلہ فلسطین پر بات کی،پاکستان نے مسئلہ فلسطین پر بھر پور موقف اپنایا۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ کےاسمبلی کے صدر سے ملاقات کی، واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ میری ملاقات ہوئی،سلامتی کونسل کی قرارداد کے دوران 3اہم اجلاس ہوئے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ او آئی سی رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں ہوئیں، پاکستان کے دورِصدارت میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ کئی سالوں بعد فلسطین بارے سلامتی کونسل میں ہماری قرارداد منظور ہوئی، اب ہماری قرارداد مختلف فورمز پر کوٹ ہورہی ہے، فلسطین کے متعلق کانفرنس میں غزہ کے متعلق بھرپور آواز اُٹھائی۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنے دورے کے دوران پاکستانی برادری، تاجروں اور صحافیوں سے بھی ملاقات ہوئی جب کہ کانفرنس میں مشرق وسطیٰ اور ایران کی صورت حال پر بھی بات چیت کی گئی۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ اس کے علاوہ کابل اور ڈھاکہ کے بھی دورے کامیاب رہے ، برطانیہ میں سندھ طاس معاہدے کے ماہرین سے بھی ملاقات کی گئی، برطانیہ میں کشمیری لیڈرز نے بھی ملاقات ہوئی ۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ قومی ایئر لاینز کی مانچسٹر کے لیے براہ راست پروازیں رواں سال ستمبر تک شروع ہو جائیں گی، برطانیہ میں پاکستانیوں کے پاسپورٹ کے لیے ون ونڈو آپریشن شروع کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عدلیہ پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں، عدلیہ بارے میرے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ، اگر کسی کو انگریزی نہیں آتی تو سیکھ لے۔
نائب وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ کابل میں چین،پاکستان کا سہ فریقی اجلاس ہوا، اجلاس میں افغان وزیر خارجہ سے دوطرفہ ملاقات بھی ہوئی ، چین اور پاکستان کو ٹی ٹی پی سے متعلق تحفظات تھے، چین سے درخواست کی کہ سی پیک کو افغانستان تک توسیع دی جائے جب کہ اجلاس میں کابل میں ریلوے لائنز بچھانے سے متعلق بھی بات چیت ہوئی۔