امن جیت گیا، جنگ ہار گئی، امن آنے والی نسلوں کو بہتر کل کی نوید دیتا ہے، رباب تبسم

امن جیت گیا، جنگ ہار گئی، امن آنے والی نسلوں کو بہتر کل کی نوید دیتا ہے، رباب تبسم
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )جنگ کا اختتام محض بندوقوں کی خاموشی نہیں، بلکہ ایک نئے عہد کی شروعات ہے۔ جب دو ملک جنگ کے بعد امن کی راہ اپناتے ہیں، تو یہ صرف معاہدے کا کاغذی ثبوت نہیں ہوتا بلکہ ایک اجتماعی شعور کی بیداری کا لمحہ ہوتا ہے۔ان خیالات کا اظہار کالم نگار ، شاعرہ رباب تبسم نے ایڈیٹر روزنامہ اداریہ جاوید بھاگٹ سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ جنگ میں نقصان صرف فوجوں کا نہیں ہوتا؛ اس کا بوجھ عام انسان اٹھاتے ہیں۔ گھر اجڑتے ہیں، نسلیں خوف میں پلتی ہیں، اور دلوں میں نفرت کے بیج بوئےجاتے ہیں۔ مگر جب لژائی کی بجائے مکالمے کا دروازہ کھلتا ہے تو یہی دل پھر سے جینے کی امید سے بھر جاتے ہیں۔ امن، جنگ کے زخموں پر مرہم رکھتا ہے اور آنے والی نسلوں کو بہتر کل کی نوید دیتا ہے۔امن کا قیام ایک دن میں ممکن نہیں ہوتا؛ یہ صبر، اعتماد ، اور باہمی احترام کا مسلسل عمل ہے۔ دونوں ممالک کو یہ ماننا ہوتا ہے کہ اختلافات کے باوجود بقائے باہمی ممکن ہے۔ نفرت کی زمین پر کبھی خوشحالی کی فصل نہیں اگتی۔ امن وہ بیج ہے جو اگر خلوص سے بویا جائے تو دوستی، ترقی اور استحکام کی فصل لاتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ
اس نئے دور کا خیرمقدم کرتے ہوئے، ضروری ہے کہ ہم ماضی کی تلخیوں سے سبق سیکھیں، مگر ان کا اسیر نہ بنیں۔ ہمیں تاریخ کو یاد رکھنا ہے، تاکہ وہ خود کو دُہرا نہ پائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں