پاکستان بے قابو آبادی، پانی کی قلت اور ماحولیاتی بحران کے سنگین خطرے میں—شیری رحمان
اسلام آباد : پاکستان میں بے قابو آبادی، پانی کی شدید قلت اور ماحولیاتی دباؤ قومی بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں، چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی سینیٹ برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے پاکستان پاپولیشن سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ملک تین ٹائم بموں کے درمیان کھڑا ہے جن کے اثرات پوری قوم بھگت رہی ہے۔
سمٹ سے خطاب میں شیری رحمان نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی پیش گوئی کے مطابق پاکستان 2025 تک نہیں بلکہ 2025 سے قبل ہی شدید پانی کی کمی کا شکار ہو چکا ہے، جبکہ عالمی ریکارڈ میں 2022 میں پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ملک قرار پایا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی آبادی میں سالانہ چھ ملین کا اضافہ ہو رہا ہے جو ملک کے محدود وسائل پر ناقابلِ برداشت دباؤ ڈال رہا ہے۔ اس بڑھتی آبادی کے بوجھ سے بچے بھوک کا شکار ہیں، صحت کے مراکز علاج فراہم کرنے سے قاصر ہیں اور چھبیس ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں جو آئندہ نسل کی بقا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بڑھتی آبادی کا وزن نہیں اٹھا سکتی، ملک کو ہر سال تین ملین نئی نوکریاں درکار ہوتی ہیں جو موجودہ معاشی حالات میں پیدا کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 2022 کے سیلاب نے جی ڈی پی کو آٹھ فیصد نقصان پہنچایا اور تیز آبادیاتی دباؤ نے اس تباہی کو مزید گمبھیر بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں 45 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ گیارہ ملین لوگ شدید بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔ ڈبلیو ایف پی اور ورلڈ بینک کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 40 فیصد بچے غذائی قلت اور اسٹنٹنگ کا شکار ہیں۔
آبادی کے دباؤ کو “عوامی صحت کا بحران” قرار دیتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ اس کا سب سے بڑا بوجھ خواتین اٹھا رہی ہیں۔ ملک میں 72 فیصد خواتین روزانہ تقریباً پورا دن گھریلو پانی لانے میں گزار دیتی ہیں، جبکہ ہر 50 منٹ بعد ایک عورت زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث جان کی بازی ہار دیتی ہے۔ حالیہ سیلابوں میں 650,000 خواتین کشتیوں یا خیموں میں بچوں کو جنم دینے پر مجبور ہوئیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ملک میں پانی کی کھپت وسائل سے کہیں زیادہ ہے اور مستقبل میں بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے 60 MAF اضافی پانی درکار ہوگا۔
سینیٹر شیری رحمان نے کم عمری کی شادیوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان میں 1 کروڑ 90 لاکھ لڑکیاں بچپن کی شادیوں کا شکار ہو چکی ہیں، جبکہ ہر چھ میں سے ایک عورت کی شادی کم عمری میں کر دی جاتی ہے۔
خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 17.3 فیصد جوڑوں کو فیملی پلاننگ کی سہولت میسر نہیں جبکہ نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ 53.54 فی ہزار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران کے حل کے لیے صرف پاپولیشن کونسل ہی نہیں بلکہ تمام قومی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ 10 ارب آبادی فنڈ کے شفاف اور مؤثر استعمال کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کو بی آئی ایس پی، صحت سہولت، آغوش، ممتا اور دیگر سماجی تحفظ پروگراموں میں مکمل طور پر ضم کرنا لازمی ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ 1994 میں شہید بینظیر بھٹو کے شروع کردہ لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام نے فرٹیلٹی ریٹ کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور اسے فوری طور پر مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مذہبی رہنماؤں، وزرائے صحت اور حکومتی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس بحران پر سنجیدگی سے آواز اٹھائیں اور پالیسیوں کے نفاذ کی رفتار تیز کریں۔