ملزم ثنا یوسف سے دوستی کرنا چاہتا تھا، مسلسل پیشکش مسترد ہونے پر قدم اُٹھایا، آئی جی اسلام آباد
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی سینئر پولیس افسران کے ہمراہ ریسکیو15-پر پریس کانفرنس ،پولیس ٹیموں نے تکنیکی بنیادوں پر تفتیش کرتے ہوئے ملزم کو 20گھنٹوں کے اندر فیصل آباد سے گرفتارکیا،ملزم کے قبضہ سے مقتولہ کا موبائل فون اور آلہ قتل برآمد،ملزم کے خلاف مقدمہ درج ہے ،مزید تفتیش جاری ہے ۔تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے ریسکیو15-پر اہم پریس کانفرنس کی،اس موقع پر ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق،ایس ایس پی انوسٹی گیشنز ،ایس ایس پی آپریشنزاور ڈی ایس پی سی آئی اے موجود تھے، آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ گزشتہ روز وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں قتل کا ایک اندہوناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک 17سالہ سوشل میڈیا انفلیونسر ثناءیوسف کو ان کے گھر میں قتل کر دیا گیا، وقوعہ کا نوٹس لینے کے بعد ڈی آئی جی اسلام آباد کی زیر نگرانی سات مختلف پولیس ٹیمیں تشکیل دیں گئی ،جنہوں نے تکنیکی بنیادوں پر تفتیش عمل میں لاتے ہوئے سوشل میڈیااکاؤنٹس اور300سے زائد کالز ریکارڈ کو اینالائز ڈ کیا ،سیف سٹی اور پرائیوٹ کیمروں کی ویڈیوز حاصل کی گئیںاور قتل میں ملوث ملزم عمر حیات کو 20گھنٹوں کے اند ر فیصل آباد سے گرفتار کر لیا، گرفتار ملزم کے قبضہ سے مقتولہ کا موبائل فون اور آلہ قتل برآمد کر لیا گیا، سفاک ملزم قتل کرنے کے بعد شواہد کو مٹانے کی غرص سے مقتولہ کا موبائل فون ساتھ لے گیا تھا، ملزم کے گرفتاری کے لئے تین شہروں میں11 سے زائد مقامات پر ریڈ کئے گئے ،ملزم ایک 22سال کا بیروزگار نوجوان ہے جو مقتولہ کے ساتھ بار بار رابطے کے لئے کوشش کر رہا تھا،مقتولہ کی جانب سے رابطہ کے انکار پر ملزم نے اس کا قتل کیا تھا،آئی جی اسلام آباد نے مزید کہا کہ ثناءیوسف کے کیس کے بعد اسلام آباد سمیت پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی،کسی بیٹی کا یوں قتل ہو جانا ہمارے لئے بہت بڑا چیلنج تھا،ملزم کے گرفتار ی کے لئے ہم پر دباؤ تھا اور ملزم کی شناخت بھی مشکل عمل تھا،اسلام آباد پولیس نے سابقہ کیسز کو حل کرتے ہوئے جس طرح ملزمان کی گرفتاریوں کو یقینی بنایا تھا ،اس کیس کو بھی قلیل مدت میں حل کرتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کویقینی بنایا،انہوں نے مزید کہا کہ ملزم کے خلاف مضبوط مقدمہ قائم کرکے ،بہترین تفتیش اور شواہد کے حصول کو یقینی بناتے ہوئے مجاز عدالت سے قرار واقعی سز ا دلوائی جائے گی۔