سینیٹ: 27 ویں ترمیم کے نئے مسودہ کی شق وار منظوری جاری، اپوزیشن کا احتجاج
اسلام آباد: سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم کے ساتھ شق وار منظوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس جاری ہے، جس میں قومی اسمبلی سے منظور کردہ 27 ویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا گیا جو کہ 56 شقوں پر مبنی ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیمی بل 2025 سینیٹ میں پیش کیا، اس دوران اپوزیشن کی طرف سے ایوان میں احتجاج اور شور شرابہ کیا گیا۔
سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم کے حق میں 64 اور مخالفت میں 4 ووٹ ڈالے گئے، سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور سینیٹر احمد خان نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ برقرار رہے گا، موجودہ چیف جسٹس اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے، کچھ وضاحتیں ضروری تھیں، اس وجہ سے مزید ترامیم پیش کی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 6 غداری سے متعلق ہے، اگر کوئی طاقت سے آئین کو پامال کرتا ہے، آرٹیکل 6 کے مرتکب افراد کو کوئی عدالت توثیق نہیں دے گی۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ چیف جسٹس، آڈیٹر جنرل کے حلف چیف جسٹس آف پاکستان لیں گے، کوئی عدالت آرٹیکل 6 کے تحت کسی مارشل لاء یا غیر آئینی اقدام کی توثیق نہیں کر سکے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز 27 ویں آئينی ترمیم قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی، 27 ویں ترمیم کی منظوری کیلئے حکومت کے پاس درکار 224 سے زیادہ 234 ارکان موجود تھے تاہم جے یو آئی (ف) نے مخالفت میں ووٹ دیا۔