جے ڈی وینس کا اسرائیلی حلقوں کو دوٹوک پیغام: “حقائق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا”

جے ڈی وینس کا اسرائیلی حلقوں کو دوٹوک پیغام: ”حقائق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا“

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ-ایران معاہدے پر تنقید کرنے والے اسرائیلی حکومتی حلقوں کو سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ حقائق کو نظرانداز کر کے مسائل کا حل تلاش نہیں کیا جا سکتا۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کی کابینہ کے بعض ارکان نے نہ صرف مجوزہ معاہدے پر اعتراضات اٹھائے بلکہ بعض شخصیات نے امریکی صدر پر ذاتی نوعیت کے حملے بھی کیے ہیں۔

جے ڈی وینس نے اس موقع پر امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی معاونت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے زیرِ استعمال ہتھیاروں کا بڑا حصہ واشنگٹن کی مدد سے حاصل کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران اسرائیل کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے تقریباً دو تہائی ہتھیار امریکہ میں تیار کیے گئے، جن کی مالی لاگت امریکی ٹیکس دہندگان نے برداشت کی۔

انہوں نے کہا کہ ’’اگر اسرائیل میں کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کے درپیش سکیورٹی چیلنجز کی اصل وجہ امریکی صدر ہیں تو اسے زمینی حقائق کا ادراک کرنا چاہیے۔‘‘

امریکی نائب صدر نے اسرائیلی سکیورٹی اور مالیاتی حکام کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے پیچیدہ مسائل کا حل صرف طاقت یا تشدد کے استعمال میں نہیں، بلکہ دانشمندانہ حکمتِ عملی اور سفارتی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔

واضح رہے کہ جے ڈی وینس اس سے قبل بھی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے شہری آبادی والے علاقوں پر حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ امن معاہدوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرے۔

اپنا تبصرہ لکھیں