عالمی یومِ پارلیمان: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا جمہوری استحکام، آئینی بالادستی اور مضبوط پارلیمان کے عزم کا اعادہ
اسلام آباد (اداریہ نیوز):
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے عالمی یومِ پارلیمان (International Day of Parliamentarism) کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مضبوط پارلیمان جمہوری استحکام، آئینی بالادستی اور عوامی فلاح کی ضمانت ہے، جبکہ پارلیمان عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمان اور جمہوری نظام کا بنیادی ستون ہے۔
اپنے پیغام میں اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ایک فعال اور مؤثر پارلیمان قومی ترقی، آئینی نظام کے استحکام اور عوامی مسائل کے پائیدار حل کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی مؤثر قانون سازی، قومی احتساب اور آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں انجام دے رہی ہے۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ عوام دوست، مؤثر اور معیاری قانون سازی کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمانی کمیٹیوں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق قانون سازی کے معیار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل نظام کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ قانون سازی کا عمل مزید شفاف، مؤثر اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں اور تمام جمہوری قوتوں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد، جمہوری استحکام اور پارلیمان کی مضبوطی کے لیے مثبت مکالمے اور باہمی تعاون کو فروغ دیں، کیونکہ مضبوط جمہوری روایات ہی قومی یکجہتی اور سیاسی استحکام کی ضمانت ہوتی ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ قومی اسمبلی عالمی سطح پر جمہوریت، پارلیمانی سفارت کاری اور پائیدار ترقی کے فروغ میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الپارلیمانی تعاون علاقائی و عالمی امن، استحکام اور اعتماد سازی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ قومی اسمبلی بین الپارلیمانی یونین (IPU) سمیت مختلف عالمی اور علاقائی پارلیمانی تنظیموں کی فعال رکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں قائم پارلیمانی فرینڈ شپ گروپس مختلف ممالک کی پارلیمانوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے، تجربات کے تبادلے اور پارلیمانی سفارت کاری کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اپنے پیغام کے اختتام پر اسپیکر قومی اسمبلی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی اسمبلی آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار کے فروغ، مؤثر قانون سازی، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی فلاح کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرتی رہے گی تاکہ پاکستان میں جمہوری نظام مزید مضبوط اور مستحکم ہو سکے۔
آپ کے خیال میں مضبوط پارلیمان جمہوری استحکام اور عوامی مسائل کے حل میں کس حد تک مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔