ہاؤس آف وزڈم اور شارجہ ہاؤس آف مینوسکرپٹس کی مشترکہ پیشکش میں علمی ورثے اور تہذیبی ہم آہنگی کا جشن
ہاؤس آف وزڈم نے شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر 2025 میں نادر مسودات کے ساتھ عرب و یونانی علمی تعلقات کو اجاگر کیا
پہلی بار ناپولین بوناپارٹ کی ملکیت والا ابن سینا کا “القانون فی الطب” اور ناصر الدین الطوسی کا “عناصرِ اقلیدس” عوامی نمائش میں
شارجہ (خصوصی رپورٹ)شارجہ میں جاری 44ویں شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر 2025 میں ہاؤس آف وزڈم (HoW) نے اپنی نمایاں شرکت کے دوران عرب و یونانی تہذیبوں کے درمیان قائم علمی و فکری تعلقات کو منفرد انداز میں اجاگر کیا۔ اس سال کے میلے کا مرکزی موضوع “Between You and the Book” ہے جبکہ یونان کو گیسٹ آف آنر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ ہاؤس آف وزڈم کا اسٹال علم و ادب کے تاریخی تبادلوں اور مشترکہ انسانی ورثے کی بھرپور نمائندگی کر رہا ہے۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر رکنِ اعلیٰ کونسل اور حکمرانِ شارجہ، ہز ہائی نس شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی اور ہر ہائی نس شہزادی شیخہ بدور بنت سلطان القاسمی (چیئرپرسن شروق) نے ہاؤس آف وزڈم کے اسٹال کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر فادی رحمہ، صدر جبران نیشنل کمیٹی لبنان، نے حکمرانِ شارجہ کو جبران خلیل جبران کی شہرۂ آفاق کتاب The Prophet کا خصوصی ایڈیشن پیش کیا ان کی جبران میوزیم کی بحالی میں گرانقدر معاونت کے اعتراف میں۔ہاؤس آف وزڈم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مروہ العقربی نے کہا کہ “ہماری شرکت ثقافتی مکالمے اور انسانی ربط کے انہی اقدار کی ترجمان ہے جن کی بنیاد علم اور احترامِ باہمی پر ہے۔ عرب و یونانی تہذیبوں کے درمیان صدیوں پر محیط رشتہ آج بھی علم و تحقیق کے لیے مشعلِ راہ ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ “اسلامی عہدِ زریں کے عرب و مسلم علماء نے یونانی علوم کو صرف ترجمہ نہیں کیا بلکہ انہیں وسعت دی فلسفہ، طب، فلکیات، ریاضی اور فنون میں نئی جہتیں پیدا کیں جنہوں نے انسانی تہذیب کو ایک نیا رخ دیا۔”ہاؤس آف وزڈم کے اسٹال پر اس تاریخی ربط کی عکاسی کرتی شاندار نمائش پیش کی گئی، جس میں عربی، یونانی اور انگریزی زبانوں میں ایک بصری ڈسپلے شامل ہے جو آٹھویں سے گیارہویں صدی عیسوی تک عباسی خلفاء کے دور میں بغداد کے بیت الحکمہ میں ہونے والی علمی سرگرمیوں کو بیان کرتا ہے۔نمائش میں پہلی بار نادر اور تاریخی کتب شامل کی گئیں جو شارقہ ہاؤس آف مینوسکرپٹس کے اشتراک سے پیش کی گئیں۔ ان میں نمایاں ہے ابن سینا کی “القانون فی الطب” کی پہلی رومن طباعت (1593ء) جو کبھی ناپولین بوناپارٹ کی ملکیت رہی اور ناصر الدین الطوسی کی Liber Elementorum(1594ء) جو یونانی جیومیٹری کو اسلامی دنیا اور یورپ تک پہنچانے کا سنگ میل ثابت ہوئی۔اسی طرح قصطا بن لوقا البعلبکی کی “رسال في استعمال الالف بھی نمائش کا حصہ ہے جو فلکیات اور سائنسی آلات کے عملی استعمال کو ظاہر کرتی ہے۔ دیگر نمایاں مخطوطات میںالرسال الحاتمي في شعر المتنبي وعلاقت بحم أرسطو” اور اثیر الدین الابرہی کی “إیساغوجي شامل ہیں جو منطق اور فلسفے کی بنیادوں کو اجاگر کرتی ہیں۔زائرین کے لیے ان نایاب نسخوں کی ڈیجیٹل نقول بھی دستیاب ہیں جنہیں وہ اپنے موبائل فون سے QR کوڈ اسکین کر کے دیکھ سکتے ہیں۔تقریب کے دوران ہاؤس آف وزڈم نے UNESCO Global Cities of Literature Initiativeکے عنوان سے ایک پینل سیشن میں بھی شرکت کی، جس میں کتاب دوستی، عالمی شہروں کے کردار اور ثقافتی تبادلوں پر گفتگو کی گئی۔ سیشن میں مروہ العقربی (پراجیکٹ ڈائریکٹر شارجہ ورلڈ بک کیپیٹل 2019) اور آنا روٹسی (ہیڈ آف میڈیا، ایتھنز ورلڈ بک کیپیٹل 2018) نے شرکت کی۔یہ شاندار نمائش نہ صرف شارجہ بلکہ عرب دنیا کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ کس طرح علم، تاریخ، اور تہذیب کے سنگم پر مستقبل کے لیے ایک نیا فکری پل تعمیر کیا جا سکتا ہے۔