اسلام آباد:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد کی امام بارگاہ میں ہونے والے افسوسناک خودکش دھما کھ کے بعد پمز اور پولی کلینک ہسپتال کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیرِ صحت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا قرار دیا۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے، جبکہ زیرِ علاج زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ واقعے کے فوری بعد پمز اور پولی کلینک ہسپتال کو الرٹ کر دیا گیا تھا اور وزارتِ صحت کے سینئر افسران مسلسل تمام صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ نہوں نے بتایا کہ چار ڈیڈ باڈیز اور 13 زخمیوں کو پولی کلینک منتقل کیا گیا، جہاں 13 میں سے 4 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ وفاقی وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ ہسپتالوں میں خون، ادویات، سرجنز اور ڈاکٹرز کی کوئی کمی نہیں اور اب تک علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت سامنے نہیں آئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پمز ہسپتال میں 10 آپریشن تھیٹر مکمل طور پر آپریشنل ہیں جبکہ تمام شفٹوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو طلب کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 60 سے زائد بلڈ بوتلیں زخمیوں کو منتقل کی جا چکی ہیں۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق طبی ٹیموں نے انتھک محنت کے ساتھ 20 بڑے آپریشن مکمل کر لیے ہیں جبکہ 4 سے 6 مزید آپریشن جاری ہیں۔ انہوں نے اطمینان دلایا کہ اب تک موصول ہونے والے زخمیوں میں کوئی نئی ہلاکت نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ پمز اور پولی کلینک ہسپتال میں زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور زخمیوں کے علاج کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے