چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے نیویارک میں Inter-Parliamentary Union (آئی پی یو) کی صدر ڈاکٹر ٹولیا ایکسن اور سیکرٹری جنرل مارٹن چونگونگ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں،

جن میں پاکستان کی فعال، باوقار اور مؤثر پارلیمانی سفارت کاری کو اجاگر کیا گیا۔

ملاقاتوں کے دوران چیئرمین سینیٹ نے پاکستان کے اصولی مؤقف، جمہوری عزم اور عالمی سطح پر فعال پارلیمانی کردار کو مدلل انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان آئی پی یو کو دنیا کی پارلیمانوں کے مابین مکالمے، قانون کی حکمرانی، جامع حکمرانی اور عالمی تعاون کے فروغ کا مؤثر ترین پلیٹ فارم سمجھتا ہے اور اس فورم پر پاکستان کا کردار ہمیشہ تعمیری اور مثبت رہا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے آئی پی یو کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ وابستگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان مسلسل آئی پی یو اسمبلیوں، قائمہ کمیٹیوں اور عمومی مباحث میں فعال شرکت کر رہی ہے۔ انہوں نے تاشقند میں منعقدہ 150ویں آئی پی یو اسمبلی میں اپنی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی اور کثیرالجہتی تعاون جیسے اہم عالمی موضوعات پر واضح اور مؤثر مؤقف پیش کیا۔

انہوں نے نومبر 2025 میں اسلام آباد میں منعقدہ انٹر پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کے کامیاب انعقاد اور “اسلام آباد اعلامیہ” کی متفقہ منظوری کو پاکستان کی اہم سفارتی کامیابی قرار دیا، جس میں امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے باہمی تعلق کو اجاگر کیا گیا۔

چیئرمین سینیٹ نے جمہوری حکمرانی کے فروغ میں سینیٹ آف پاکستان کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایوان بالا صوبائی ہم آہنگی، اقلیتوں کے تحفظ، شفاف قانون سازی اور مؤثر نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے ایس ڈی جیز کو پارلیمانی ملکیت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے قانون سازی، بجٹ نگرانی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں مزید تعاون کی خواہش ظاہر کی۔

موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہو رہے ہیں، اور 2022 کے تباہ کن سیلاب سمیت حالیہ شدید موسمی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی برادری پر موسمیاتی انصاف کے اصولوں کے تحت معاونت بڑھانے پر زور دیا۔

خواتین کی سیاسی و معاشی شمولیت پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو خواتین کے معاشی استحکام اور غربت کے خاتمے میں مؤثر اقدام قرار دیا اور کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

عالمی امن اور انسانی حقوق کے موضوع پر انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا اور فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری قرار دیا۔

آئی پی یو کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات میں چیئرمین سینیٹ نے سینیٹ سیکرٹریٹ کے ادارہ جاتی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے پارلیمانی جدیدیت، ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت پر مبنی سہولیات، تحقیقی معاونت اور عملے کی تربیت کے شعبوں میں عملی تعاون کی تجاویز پیش کیں۔

ملاقاتوں کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کی پارلیمان اور آئی پی یو کے مابین تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی، جبکہ چیئرمین سینیٹ کی فعال قیادت کو عالمی پارلیمانی حلقوں میں سراہا گیا

اپنا تبصرہ لکھیں