اسلام آباد: صدرِ مملکت نے چینی نئے سال 2026 کے موقع پر چین کی حکومت، قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان لازوال دوستی کو خطے کے امن اور ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔
اپنے خصوصی پیغام میں صدر نے کہا کہ گھوڑے کا سال توانائی، ترقی اور ثابت قدمی کی علامت ہے، اور انہیں یقین ہے کہ یہ سال چین اور پاکستان دونوں کے لیے خوشحالی اور کامیابیوں کا پیامبر ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ سال 2026 پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کا سال بھی ہے، جو سات دہائیوں سے زائد پر محیط باہمی اعتماد اور تعاون کی شاندار تاریخ کا مظہر ہے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ پاک چین دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔ انہوں نے تاریخی تناظر میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور ماؤ زے دُونگ کی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی بصیرت افروز قیادت نے دوطرفہ تعلقات کی مضبوط بنیاد رکھی۔
صدر نے پاکستان کے ون چائنا پالیسی پر غیر متزلزل مؤقف کا اعادہ کیا اور مسئلہ کشمیر پر چین کی مستقل اور اصولی حمایت کو سراہا۔ انہوں نے شی جن پنگ کی قیادت میں چین کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کو قابلِ تحسین قرار دیا اور کہا کہ عالمی امن و استحکام کے لیے چین کی کوششیں اہمیت کی حامل ہیں۔
پیغام میں شنگھائی تعاون تنظیم میں چین کے فعال کردار کو بھی سراہا گیا، جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کو علاقائی رابطہ کاری اور معاشی ترقی کا کلیدی منصوبہ قرار دیا گیا۔ صدر نے کہا کہ سی پیک کے اگلے مرحلے میں داخلے سے صنعتی تعاون، توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نئی راہیں کھلیں گی۔
انہوں نے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے قریبی تعاون کو خطے کے امن کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے دعا کی کہ نیا سال پاکستان اور چین کے درمیان تجارت، جدت اور عوامی روابط میں مزید کامیابیاں لے کر آئے