مریم نواز نے ہدایت کی کہ جامع میگا ایکشن پلان کو سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔
ذرائع کے مطابق راوی اور چناب بیسن کے نالوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی لائی جا سکے، وزیراعلیٰ نے پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز کو تین ماہ کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے نئی ہاؤسنگ سکیموں کیلئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لازمی قرار دے دیا ہے، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے بغیر کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کو این او سی جاری نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت ہڈیارہ ڈرین پر روزانہ 50 کروڑ گیلن سیوریج ٹریٹمنٹ اور فلوٹنگ ویٹ لینڈز کے قیام سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت ہڈیارہ میں سالڈ ویسٹ کلیئرنس کا مؤثر میکنزم فعال ہو چکا ہے اور 30 کلومیٹر میں سے 10 کلومیٹر کام مکمل کر لیا گیا ہے جس سے آلودگی کے بوجھ میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ہڈیارہ کا آلودہ پانی 24 گھنٹوں میں دریائے راوی میں شامل ہو جاتا ہے، دریا میں گرنے والے آلودہ پانی کو صاف کرنے کیلئے بھارتی انٹری، فیروزپور روڈ، مولنوال اور برکی کے مقامات پر ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
مزید برآں نالہ لئی پر 19 لاکھ گیلن یومیہ سیوریج ٹریٹمنٹ کے آزمائشی منصوبے پر بھی غور کیا گیا، اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میونسپل ڈیولپمنٹ فنڈ کمپنی کی جانب سے چار دیہات میں فلوٹنگ ویٹ لینڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے سیوریج ٹریٹمنٹ کا کامیاب تجربہ کیا جا چکا ہے جبکہ اپریل 2023 میں مانگا والا میں تنصیب کے بعد بایو ڈی گریڈیشن اور آکسیجنیشن کے مؤثر نتائج سامنے آئے ہیں۔