وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دہشتگردی کے شواہد کے حوالے سے بیان گمراہ کن قرار

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دہشتگردی کے شواہد کے حوالے سے بیان گمراہ کن قرار

اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دہشتگردی کے شواہد کے حوالے سے بیان گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا دانستہ طور پردہشتگردی کےخلاف قومی بیانیے میں ابہام پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں، سہیل آفریدی کا افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کے شواہد طلب کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور افسوسناک ہے۔

پاکستان متعدد مواقع پرطالبان رجیم کو دہشتگردوں کی سہولت کاری کے مستند شواہد فراہم کرچکا ہے، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا یہ بیان کہ دیگر ہمسایہ ممالک نے افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی پر تذکرہ نہیں کیا جو حقائق کے منافی ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ افغانستان دہشتگرد تنظیموں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور تمام پڑوسی ممالک بھی اِس کی دہشتگرد پالیسی سے تنگ ہیں،ایران سکیورٹی وجوہات کی بنا پر غیر قانونی افغان مہاجرین کو بے دخل کر رہا ہے،تاجکستان میں گزشتہ سال افغانستان سے ہونے والے دو مختلف حملوں میں 5 چینی ورکرز کی ہلاکت ہوئی۔

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فوکانگ نے خبردار کیا کہ افغان سر زمین میں ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد گروہ فعال اور پڑوسی ممالک پر حملوں میں ملوث ہیں، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں بشمول بین الاقوامی ذرائع ابلاغ شواہد کی بنیاد پر افغانستان کو دہشتگردی کا گڑھ قرار دے چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں داعش ، ٹی ٹی پی ، القاعدہ، جماعت انصاراللہ سمیت دیگر کالعدم دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں، افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی نے پاکستان پر حملے کیے جو بڑے خطرے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

2025 میں ٹی ٹی پی نے پاکستان میں تقریباً 600 حملے کیے، جن میں سے کئی پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں