اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) یک نہایت اہم عوامی مفاد کے معاملے پر آپ کے سامنے حقائق رکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری تشویش کسی شخصیت سے نہیں بلکہ قانون، شفافیت اور ہزاروں ممبران کے حقوق سے ہے۔
سوسائٹی کی حالیہ جنرل باڈی میٹنگ میں متعدد اہم قراردادیں منظور کی گئیں، جن میں زمین کی خریداری، پلاٹوں کی الاٹمنٹ، لینڈ ایکسچینج، کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبے، ڈیولپمنٹ چارجز اور دیگر مالی معاملات شامل ہیں۔ تاہم ان قراردادوں کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
ممبران سوسائٹی کا مؤقف ہے کہُ
– اگر سوسائٹی کا Layout Plan متعلقہ اتھارٹی سے منظور شدہ نہیں تھا، تو زمین کی خرید، پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کس قانونی اختیار کے تحت دی گئی؟
– اگر اجلاس میں قواعد کے مطابق مطلوبہ کورم (Quorum) موجود نہیں تھا، تو اجلاس کی کارروائی اور اس میں منظور ہونے والی قراردادیں کیسے قانونی سمجھی جا سکتی ہیں؟
– اگر اجلاس سے پہلے ایجنڈا اور متعلقہ ریکارڈ ممبران کو فراہم نہیں کیا گیا اور اہم معاملات پر کھلی بحث نہیں ہوئی، تو کیا ممبران کی منظوری حقیقی اور باخبر منظوری کہلا سکتی ہے؟
– جب سوسائٹی کے بنیادی قانونی اور ریگولیٹری معاملات ہی متنازع ہوں، تو کروڑوں روپے کے مالی فیصلے کس بنیاد پر کیے گئے؟
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ سوالات متعلقہ ریکارڈ اور قانونی تقاضوں کی روشنی میں اٹھائے جا رہے ہیں۔ اگر یہ حقائق درست ثابت ہوتے ہیں تو ان قراردادوں کی قانونی حیثیت متعلقہ فورمز پر چیلنج کی جا سکتی ہے۔
لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
1. اجلاسِ عام کی مکمل کارروائی، حاضری رجسٹر اور ووٹنگ ریکارڈ عوام اور ممبران کے سامنے لایا جائے۔
2. اجلاس میں منظور ہونے والی تمام قراردادوں کا آزادانہ قانونی اور انتظامی آڈٹ کیا جائے۔
3. متعلقہ ریگولیٹری ادارے اس اجلاس کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیں۔
4. اگر کسی بھی سطح پر قانون یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو، تو ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور غیر قانونی قراردادوں کو کالعدم قرار دیا جائے۔
ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ ہمارا مقصد کسی فرد یا ادارے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، شفافیت، احتساب اور تمام ممبران کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ اگر سوسائٹی انتظامیہ سرکل رجسٹرار اپنا موقف دینا چاہے تو ادارہ ان کا موقف بھی شائع کرے گا