سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس انوشہ رحمان کی زیر صدارت منعقد

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر انوشہ رحمان کی زیر صدارت ورچوئلی منعقد ہوا، جس میں وزارتِ تجارت کے بجٹ اخراجات، مالی سال 2026-27 کے لیے پی ایس ڈی پی تجاویز، انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (آئی پی او) سے متعلق سابقہ سفارشات پر عملدرآمد اور برآمدات کے فروغ سمیت متعدد اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں کوئٹہ ایکسپو سینٹر منصوبے پر خصوصی غور کیا گیا، جس کی لاگت تقریباً 4.8 ارب روپے بتائی گئی۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اراکین نے مجوزہ مقام کی موزونیت اور سیکیورٹی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔ کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں نے بریفنگ میں بتایا کہ موجودہ مقام شہر سے دور اور غیر محفوظ ہے، جو تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔ کمیٹی نے اس منصوبے کو موجودہ مقام پر غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے اسے مؤخر کرنے اور معاملہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ساتھ دوبارہ اٹھانے کی سفارش کی۔

کمیٹی کو “ایکسپورٹ ایکسیلیریٹر برائے ایس ایم ایز” منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اراکین نے رائے دی کہ برآمدات کے فروغ سے متعلق منصوبے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے ذریعے مالی اعانت کے لیے پیش کیے جائیں۔ تفصیلی غور کے بعد کمیٹی نے ہدایت کی کہ اس منصوبے کو پہلے ای ڈی ایف بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر ہی پی ایس ڈی پی کے ذریعے فنڈنگ پر غور کیا جائے۔

اجلاس میں آئی پی او کے دفاتر اور زیر التواء مقدمات کے حوالے سے بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرپرسن نے مقدمات کی بڑی تعداد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہیں جلد نمٹانے کی ہدایت دی، جس پر آئی پی او حکام نے یقین دہانی کرائی کہ انسانی وسائل کی تربیت کے ذریعے چھ ماہ کے اندر زیر التواء کیسز نمٹا دیے جائیں گے۔

ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے خواتین کاروباری افراد کے فروغ اور کاٹیج انڈسٹری کے استحکام کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی نے ان اقدامات کو سماجی و معاشی ترقی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے مزید پالیسی سطح کی مداخلت کی ضرورت پر زور دیا۔

کوریا اور جدہ میں تعینات ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلرز نے بھی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق آگاہ کیا۔ چیئرپرسن نے کوریا کے ساتھ صنعتی تعاون کے فروغ اور ممکنہ آزاد تجارتی معاہدے کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ سعودی عرب میں ابھرتے ہوئے آئی ٹی اور ڈیٹا سینٹر منصوبوں میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں سینیٹر سرمد علی، سینیٹر امیر ولی الدین چشتی، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر راحت جمالی اور سینیٹر بلال احمد سمیت متعلقہ حکام نے شرکت ک

اپنا تبصرہ لکھیں