گوجر خان میٹرو سٹی متاثرین کا نیب اسلام آباد کے سامنے احتجاج، قبضے اور اضافی چارجز کے خلاف شدید نعرے بازی

گوجر خان میٹرو سٹی ہاؤسنگ منصوبے سے متاثرہ شہریوں نے نیب ریجنل آفس اسلام آباد کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کر دیے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ مکمل ادائیگیاں کرنے کے باوجود انہیں نہ تو پلاٹوں کا قبضہ دیا جا رہا ہے اور نہ ہی ترقیاتی کام مکمل کیے گئے ہیں، جبکہ اب ڈویلپمنٹ کے نام پر مزید بھاری رقوم طلب کی جا رہی ہیں۔

احتجاج میں شریک شہریوں نے الزام لگایا کہ میٹرو سٹی انتظامیہ نے ابتدائی مرحلے میں ترقیاتی اخراجات کے نام پر پہلے ہی رقم وصول کی، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ متاثرین کے مطابق متعدد مقامات پر اب بھی کھیت، جھاڑیاں اور غیر ترقی یافتہ اراضی موجود ہے، جبکہ اشتہارات میں جدید اور مکمل سہولیات سے آراستہ ہاؤسنگ سوسائٹی کا تاثر دیا گیا تھا۔

ایک اسی سالہ بزرگ خاتون نے احتجاج کے دوران کہا کہ انہوں نے عمر بھر کی جمع پونجی اس منصوبے میں لگائی، مگر آج وہ اپنے ہی حق کے حصول کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں اور متاثرین کو ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔

متاثرین نے مزید الزام عائد کیا کہ انتظامیہ اب سو فیصد سے زائد اضافی رقوم ڈویلپمنٹ چارجز کی مد میں طلب کر رہی ہے، جو عام شہریوں کے لیے ناقابل برداشت ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر بروقت ترقیاتی کام مکمل کیے جاتے اور وعدوں کے مطابق قبضے دیے جاتے تو صورتحال یہاں تک نہ پہنچتی۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے نیب حکام سے فوری مداخلت اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ متاثرین کے مطابق اس معاملے پر نیب میں متعدد درخواستیں جمع کروائی جا چکی ہیں، تاہم تاحال مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔

ذرائع کے مطابق احتجاج کے بعد نیب اسلام آباد نے متاثرین میں سے تین افراد کو مذاکرات اور تفصیلات کے حصول کے لیے دفتر طلب کر لیا، جہاں ملاقات جاری رہی۔ متاثرین نے امید ظاہر کی کہ نیب ان کی شکایات کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لا

اپنا تبصرہ لکھیں