نیب کا انسدادِ منی لانڈرنگ فریم ورک اور تفتیشی طریقہ کار پر ضلعی عدلیہ کے لیے تربیتی نشست دوئم کا انعقاد

قومی احتساب بیورو نے پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی(PACA) اسلام آباد میں اسلام آباد ضلعی عدلیہ کے معزز ججوں کے لیے اپنی جاری تربیتی نشستوں کے سلسلے کی عملی نشت دوئم کا انعقاد کیا ۔

“منی لانڈرنگ کیسز کا تفتیشی طریقہ کار اور عالمی فریم ورک” کے عنوان سے منعقدہ اس نشست کا مقصد پیچیدہ مالیاتی جرائم کے خلاف جنگ میں تفتیشی تکنیکی مہارت اور عدالتی نگرانی کے درمیان خلیج کو کم کرنے کے لیے بیورو کے پختہ عزم کو اجاگر کرنا ہے۔

اس تقریب میں وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ مہمانِ خصوصی تھے، جبکہ چیئرمین نیب، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کارروائی کا افتتاح کیا۔ تکنیکی بصیرت فراہم کرنے والے اہم شرکاء میں ڈپٹی چیئرمین سہیل ناصر، پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر شاہ، ڈائریکٹر جنرل (ایس آئی ڈی) محمد طاہر، اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (FMU) کی جانب سے بطور ریسورس پرسن اور ماسٹر ٹرینر محترمہ نورالصحر شامل تھیں۔

اپنے کلیدی خطاب میں، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے قانون کی حکمرانی کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم اور اس طرح کے ادارہ جاتی استعداد کار بڑھانے والے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عملی نشست کے اس سلسلے کے ذریعے تفتیشی اداروں اور عدلیہ کے درمیان پیدا ہونے والی ہم آہنگی ایک مستحکم قانونی نظام کی بنیاد ہے۔انہوں نے مزید کہا، “ان اہم کیسز میں عدلیہ منصفانہ عمل (due process) کی حتمی محافظ کے طور پر کام کرتی ہے۔ پیشہ ورانہ ترقی کے اس پلیٹ فارم کو برقرار رکھ کر، ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہمارا قانونی ڈھانچہ متحرک رہے اور عدلیہ قومی مفاد کے تحفظ اور ہر شہری کے بنیادی حقوق کو برقرار رکھنے کے لیے پوری طرح لیس ہو۔”

وفاقی وزیر نے عدلیہ کے اندر خصوصی تربیت کی اشد ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات بدلتے ہوئے قوانین اور ان سے وابستہ پیچیدگیوں کو جامع طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے انسدادِ منی لانڈرنگ (AML) پر یہ سیمینار منعقد کرنے پر نیب کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کرتا ہے۔

چیئرمین نیب، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے اپنے استقبالیہ خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ اس سلسلے کا تسلسل تفتیش کاروں اور معزز عدلیہ کے درمیان ایک مربوط اور مسلسل کوشش کی ضرورت کی عکاسی کرتا ہے۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ مالیاتی جرائم کے بدلتے ہوئے منظر نامے کے پیش نظر نیب کی تفتیشی حکمت عملی کا عدالتی تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ رہنا ناگزیر ہے۔ اس مسلسل مکالمے کو برقرار رکھ کر، ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہمارے کیسز نہ صرف شواہد پر مبنی ہوں بلکہ اعلیٰ ترین عدالتی جانچ پڑتال پر بھی پورا اتریں، جس سے پاکستان کی معاشی سالمیت مضبوط ہو۔

اس نشست میں نیب کے اعلیٰ حکام اور مالیاتی ماہرین کی جانب سے گہرائی سے تکنیکی بریفنگ دی گئی۔ مباحثوں کا مرکز انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ (AMLA) 2010 کے تازہ ترین رجحانات، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے بدلتے ہوئے عالمی معیارات، اور انٹیلی جنس پر مبنی تفتیش کی آپریشنل اہمیت تھی۔

تقریب کے اختتام میں وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے شریک ججوں میں اسناد تقسیم کی –

یہ کامیاب دوسری نشست ادارہ جاتی استعداد کار کو مضبوط بنانے کے قومی عزم کی تجدید کرتا ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان مؤثر، شواہد پر مبنی فیصلوں اور باہمی تعاون پر مبنی گورننس کے ذریعے مالیاتی بدعنوانی کے خلاف مستحکم رہے

اپنا تبصرہ لکھیں