پاکستان اور ایران خطے کے امن کے لیے آہنی دیوار بنیں گے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ترقی کی نئی راہیں کھولے گی: شہباز شریف

پاکستان اور ایران خطے کے امن کے لیے آہنی دیوار بنیں گے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ترقی کی نئی راہیں کھولے گی: شہباز شریف

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران پاکستان اور ایران نے خطے میں امن، استحکام اور دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ باہمی اعتماد، مذاکرات اور علاقائی روابط ہی پائیدار امن اور ترقی کی ضمانت ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت مستقبل میں باقاعدہ معاہدے کی شکل اختیار کر سکتی ہے جس سے ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا میں ایسے عناصر موجود ہیں جو خطے میں امن اور مفاہمت کی کوششوں کو ناکام بنانا چاہتے ہیں، تاہم پاکستان اور ایران ایسے عناصر کے خلاف آہنی دیوار ثابت ہوں گے۔

وزیراعظم نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ثالثی اور سفارتی رابطوں کے ذریعے امن کے قیام کے لیے مخلصانہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک صرف ہمسایہ نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پاکستان کو برادر اسلامی ملک قرار دیتے ہوئے مذاکراتی عمل میں اسلام آباد کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی کوششیں قابلِ تعریف ہیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پاکستان پر اعتماد کی بدولت ممکن ہوئی۔

ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران مشترکہ مستقبل کے شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک کو علاقائی امن، اقتصادی تعاون اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن صرف مکالمے، باہمی احترام اور تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران دونوں رہنماؤں نے ان خبروں کو بھی مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات ہوئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ میزائل پروگرام کسی بھی مرحلے پر مذاکرات یا مفاہمتی یادداشت کا حصہ نہیں رہا۔

کیا پاکستان اور ایران کا بڑھتا تعاون خطے میں امن اور استحکام لا سکتا ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں