اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا آئینی بالادستی، پارلیمانی وقار اور باہمی احترام کے فروغ کے عزم کا اعادہ
اسلام آباد24 جون 2026:
قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس 27-2026 کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے آئین کی بالادستی، پارلیمانی روایات اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ انہوں نے 1998 میں پاکستان تحریک انصاف سے استعفیٰ دیا تھا اور ان کا استعفیٰ آج بھی ان کے پاس محفوظ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس خط میں انہوں نے استعفیٰ دینے کی وجوہات اور بعض ایسے رویّوں کا ذکر کیا تھا جو اس وقت پارٹی کی جانب سے اختیار کیے جا رہے تھے۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ انہوں نے یکم فروری 2001 کو پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی، جب سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو ملک سے گئے ہوئے صرف پچاس دن ہوئے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کسی اقتدار میں موجود جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی تھی بلکہ ایسی سیاسی جماعت کا انتخاب کیا تھا جس کی قیادت کے بارے میں عمومی تاثر تھا کہ وہ کئی برس تک پاکستان واپس نہیں آئے گی۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے شاہ محمود قریشی سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ریمارکس صرف شاہ محمود قریشی کے حوالے سے تھے اور وہ آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کی جانب سے انہیں ’’حوالدار‘‘ کہا گیا، جس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ دو طرح کے حوالداروں کو جانتے ہیں؛ ایک وہ جو وطن کی سرحدوں پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو معاشرے کو جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ذاتی نوعیت کا تبصرہ تھا جسے انہوں نے تحمل اور بردباری سے لیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اگرچہ آئین اور پارلیمانی قواعد اسپیکر کے منصب کے احترام اور تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں، تاہم انہوں نے کبھی بھی اراکین کو تنقید یا اظہارِ رائے سے نہیں روکا اور وہ تعمیری تنقید کو ادارہ جاتی بہتری کے لیے مفید سمجھتے ہیں۔
قائدِ حزبِ اختلاف کی جانب سے آئین کی خلاف ورزی کے الزام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے متعدد بار دریافت کیا کہ آخر کون سی آئینی شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے، تاہم اس کا جواب دیے بغیر قائدِ حزبِ اختلاف ایوان سے چلے گئے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام اراکین کو پارلیمانی آداب اور حدود کا احترام کرنا چاہیے۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ ایوان کا ہر رکن ان کے لیے قابلِ احترام ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عہدے عارضی ہوتے ہیں اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہ آئندہ اسمبلی کا حصہ ہوگا یا نہیں، لیکن باہمی احترام اور عزت کے رشتے برقرار رہنے چاہئیں کیونکہ سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں بلکہ نظریات اور مسائل کا اختلاف ہوتے ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ان کے تمام فیصلے اور رولنگز آئینِ پاکستان اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط 2007 کے مطابق ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو، تاہم وہ بھی ایک انسان ہیں اور غلطی سے مبرا نہیں۔
بجٹ اجلاس 27-2026 کے دوران حزبِ اختلاف کو دیے گئے مواقع کا ذکر کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ اپوزیشن کو مختص وقت سے تقریباً دوگنا وقت فراہم کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 67 اپوزیشن اراکین نے بجٹ بحث میں حصہ لیا جبکہ تین روز تک مسلسل رابطے کر کے دیگر اراکین کو بھی ایوان میں شرکت کی دعوت دی جاتی رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض اراکین کو بحث میں شرکت کے لیے بلانے کی غرض سے سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی بھیجا گیا، تاہم اس کے باوجود کئی اراکین اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ کٹوتی کی تحریکوں پر عمومی طور پر پانچ سے دس اراکین اظہارِ خیال کرتے ہیں، تاہم اپوزیشن کے پچیس پچیس اراکین کو موقع دیا گیا تاکہ وہ اپنے مؤقف کا مکمل اظہار کر سکیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان تمام مواقع کی فراہمی کے باوجود بعض اراکین نے ایوان سے باہر میڈیا کے سامنے یہ مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اظہارِ خیال کا موقع نہیں دیا گیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایوان کے تمام اراکین کو مساوی مواقع فراہم کرنے، پارلیمنٹ کے وقار کے تحفظ اور جمہوری روایات کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری غیر جانبداری اور دیانت داری کے ساتھ انجام دیتے رہیں گے۔