ایف آئی اے میں 22 افسران کی ترقی، ادارہ جاتی استعداد مزید مضبوط ہونے کی امید

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے افسران کی پیشہ ورانہ ترقی کے سلسلے میں اہم اقدام کرتے ہوئے مجموعی طور پر 22 افسران کو اگلے عہدوں پر ترقی دے دی ہے۔ 13 اگست 2026 کو جاری ہونے والے دو الگ الگ آفس آرڈرز کے مطابق محکمانہ ترقیاتی کمیٹی (Departmental Promotion Committee) کی سفارش اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی منظوری کے بعد 8 سب انسپکٹرز کو انسپکٹر (BPS-16) جبکہ 14 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کو سب انسپکٹر (BPS-14) کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔

آفس آرڈر نمبر 91/2026 کے مطابق ترقی پانے والے سب انسپکٹرز میں فوزیہ صدف کٹپور، ہمیرا اسلم، شبانہ منیر، سبین غوری، طیبہ نسرین، زاہدہ پروین، ناہید اختر اور بینش رحمان شامل ہیں۔ ان افسران کی تعیناتیاں بالترتیب ایف آئی اے کراچی، این سی سی آئی اے اسلام آباد، فیصل آباد زون، کراچی زون، گوجرانوالہ زون، پشاور زون اور لاہور زون میں برقرار رکھی گئی ہیں۔

دوسرے آفس آرڈر نمبر 92/2026 کے تحت انیس علی، سید افصار رضا، نعیم احمد، محمد الیاس خان، فوزیہ بیگم، شہزاد سلیم، اصغر خان، امیر خان، ممتاز احمد، محمد اسماعیل، محمد ظفر خان، علی نواز سوہو، عابد حسین زرداری اور خورشید علی کو اسسٹنٹ سب انسپکٹر سے سب انسپکٹر کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔ ان افسران کا تعلق ایف آئی اے کراچی، اسلام آباد، پشاور اور بلوچستان زونز سمیت مختلف شعبوں سے ہے۔

آفس آرڈرز کے مطابق ترقی پانے والے افسران کو ایک سال کی پروبیشن پر رکھا جائے گا جبکہ ترقی کے بعد بھی انہیں ان کی موجودہ جائے تعیناتی پر فرائض سرانجام دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ متعلقہ ڈائریکٹر کو ضرورت کے مطابق اپنے دائرۂ اختیار میں افسران کی منتقلی کا اختیار حاصل ہوگا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایف آئی اے کو وفاقی سطح پر اینٹی کرپشن، انسانی اسمگلنگ و منی لانڈرنگ، امیگریشن، مالیاتی جرائم، سائبر کرائم اور دیگر وفاقی نوعیت کے جرائم کے خلاف کارروائی سمیت وسیع ذمہ داریاں انجام دینا پڑ رہی ہیں۔ ادارے کے سرکاری مؤقف کے مطابق ایف آئی اے کا مشن پیشہ ورانہ تربیت، میرٹ، اندرونی احتساب، ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ (FIA)

ایف آئی اے ایکٹ 1974 کے تحت قائم اس ادارے کو ملک بھر میں مخصوص وفاقی جرائم کی انکوائری اور تفتیش کا اختیار حاصل ہے، جبکہ قانون کے تحت سب انسپکٹر یا اس سے اوپر کے افسران کو بعض حالات میں تفتیشی اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں۔ (FIA)

ایف آئی اے کی جانب سے افسران کی ترقی کا یہ عمل ادارے میں کیریئر پروگریشن، تجربہ کار افرادی قوت کی حوصلہ افزائی اور مختلف زونز میں انتظامی و تفتیشی استعداد بڑھانے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ مزید افسران کی پیشہ ورانہ ترقی سے ادارے کی مجموعی کارکردگی، عوامی شکایات کے ازالے اور وفاقی جرائم کے مؤثر تدارک میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

ایف آئی اے کی موجودہ پالیسی اور سرکاری وژن میں بھی پروفیشنل ازم، غیر جانب داری، دیانت داری اور بہترین کارکردگی کو بنیادی اقدار قرار دیا گیا ہے، جس کے تناظر میں حالیہ ترقیوں کو ادارے کے انسانی وسائل کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہاہے

اپنا تبصرہ لکھیں