اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) اسلام آباد زون میں زیرِ التوا شوکاز نوٹسز کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون نے مختلف عہدوں پر تعینات 132 افسران و اہلکاروں کو آرڈرلی روم میں طلب کر لیا ہے۔
ایف آئی اے اسلام آباد زون کی جانب سے جاری سرکاری حکم نامہ نمبر DIZ/Admn/O.R/2026/4709-10 مؤرخہ 13 اگست 2026 کے مطابق مذکورہ افسران و اہلکاروں کو 17 اگست 2026 بروز پیر دوپہر 12 بجے ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون کے روبرو آرڈرلی روم میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ متعلقہ افسران و اہلکاروں کے خلاف شوکاز نوٹسز زیرِ التوا ہیں، جن کے سلسلے میں انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ نوٹس کے مطابق اگر کوئی متعلقہ اہلکار مقررہ وقت پر پیش نہ ہوا تو ریکارڈ پر دستیاب شواہد کی بنیاد پر یکطرفہ (Ex-Parte) فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
سرکاری فہرست میں سب انسپکٹر (SI)، اسسٹنٹ سب انسپکٹر (ASI)، ہیڈ کانسٹیبل (HC)، لوئر ہیڈ کانسٹیبل (LHC)، کانسٹیبل (FC/LC) سمیت مختلف کیڈرز سے تعلق رکھنے والے افسران و اہلکار شامل ہیں۔ فہرست کے مطابق بعض اہلکار اسلام آباد زون کے مختلف تفتیشی و انتظامی یونٹس جبکہ بعض اے ایم ایل سی، اے سی سی، سی بی سی، ایگوآ یونٹ، اے ایچ ٹی سی راولپنڈی، لاء برانچ اور دیگر شعبوں میں تعینات ہیں۔
دستاویز کے مطابق آرڈرلی روم میں طلبی کا مقصد زیرِ التوا شوکاز نوٹسز کے معاملے میں متعلقہ اہلکاروں کا مؤقف سننا اور دستیاب ریکارڈ و شواہد کی روشنی میں معاملہ نمٹانا ہے۔ حکم نامے کے اختتام پر واضح کیا گیا ہے کہ یہ اقدام ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں افسران و اہلکاروں کو ایک ہی کارروائی کے تحت آرڈرلی روم میں طلب کیے جانے سے ایف آئی اے اسلام آباد زون میں محکمانہ احتساب کے عمل میں تیزی کا عندیہ ملتا ہے، تاہم ہر اہلکار کے خلاف شوکاز نوٹس کی نوعیت اور الزامات کی تفصیلات متعلقہ انفرادی کارروائی کے ریکارڈ سے ہی واضح ہوں گی۔
**واضح رہے کہ آرڈرلی روم میں طلبی بذاتِ خود کسی افسر یا اہلکار کے خلاف الزام ثابت ہونے کے مترادف نہیں، بلکہ یہ محکمانہ کارروائی میں مؤقف پیش کرنے کا مرحلہ ہے