اسلام آباد (17 اگست 2026): سینیٹ کی ڈیولوشن سے متعلق ذیلی کمیٹی نے 18ویں آئینی ترمیم پر مکمل عملدرآمد، وفاقی حکومت کے حجم اور اخراجات میں نمایاں کمی اور صوبوں کو آئینی اختیارات کی فوری منتقلی کی ہدایت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو قواعدِ کاروبار میں ضروری ترامیم کرکے 15 روز میں رپورٹ کمیٹی کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
سینیٹ سب کمیٹی کا اجلاس کنوینر سینیٹر بیرسٹر ضمیر حسین غمرو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، جس میں سینیٹر پونجو بھیل، سینیٹر جان محمد بلیڈی اور متعلقہ وفاقی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کمیٹی کے کنوینر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 270AA کے تحت دسمبر 2010 سے جون 2011 کے دوران جاری نوٹیفکیشنز کے ذریعے مشترکہ قانون سازی کے شعبوں کی مکمل منتقلی اور 17 وفاقی وزارتوں کے خاتمے کی ہدایات دی گئی تھیں، تاہم متعدد شعبے تاحال وفاق کے پاس برقرار ہیں۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ صوبائی نوعیت کے معاملات پر وفاقی حکومت کا اختیار برقرار رکھنا آئینی تقاضوں سے متصادم ہے۔
کمیٹی نے وفاقی حکومت کے موجودہ اخراجات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اخراجات تقریباً 19 کھرب روپے سے کم کرکے 13 کھرب روپے تک لائے جائیں، کیونکہ ملک کی مجموعی ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن تقریباً 20 کھرب روپے ہے اور موجودہ حجم کے اخراجات قابل برداشت نہیں۔ کمیٹی کے مطابق وفاقی قرضوں پر تقریباً 8 کھرب روپے سالانہ سود کی ادائیگی بھی ملکی معیشت پر شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہے۔
اجلاس میں قرار دیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 154 کے تحت وفاقی قانون ساز فہرست کے حصہ دوم میں شامل معاملات کونسل آف کامن انٹرسٹس (CCI) کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اس لیے ایسے معاملات وفاقی کابینہ کے بجائے مشترکہ مفادات کونسل میں زیر بحث لائے جانے چاہئیں۔ کمیٹی نے وزیراعظم کو ہدایت کی کہ سی سی آئی کے اجلاس باقاعدگی سے بلائے جائیں اور صوبوں کے حقوق سے متعلق معاملات کونسل کے سامنے پیش کیے جائیں۔
کمیٹی نے سی سی آئی کی ازسرنو تشکیل اور صوبوں کو مساوی نمائندگی دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ بجلی، پٹرولیم، گیس اور ادویات کی قیمتوں سے متعلق معاملات کی نگرانی اور فیصلہ سازی بھی آئینی تقاضوں کے مطابق سی سی آئی کے ذریعے ہونی چاہیے۔
ذیلی کمیٹی نے ریلوے، بندرگاہوں، بجلی، پٹرولیم اور بعض ریگولیٹری اداروں سمیت ایسے شعبوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جو کمیٹی کے مطابق صوبائی یا سی سی آئی کے دائرہ اختیار سے متعلق ہیں۔ اوگرا، نیپرا، پیمرا اور پی ٹی اے سمیت مختلف اداروں کے اختیارات کے حوالے سے بھی آئینی حدود کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں آئیسکو، فیسکو، لیسکو، گیپکو، سیپکو اور حیسکو کی نجکاری کے معاملے پر کمیٹی نے قرار دیا کہ اسے سی سی آئی کے سامنے پیش کیا جائے اور متعلقہ آئینی تقاضے پورے کیے جائیں۔
کمیٹی نے وفاقی حکومت کے تحت برقرار وزارتوں اور اداروں کا بھی جائزہ لیا اور صحت، تعلیم، قومی غذائی تحفظ، آبی وسائل، موسمیاتی تبدیلی، ہاؤسنگ، ثقافت و ورثہ، ای او بی آئی، نارکوٹکس، پی ایم ڈی سی، ریلوے، صنعت، شماریات، پٹرولیم، منصوبہ بندی و ترقی اور دیگر شعبوں کو ڈیولوشن کے تناظر میں دیکھنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے معاملات کی نگرانی کے نام پر ملک گیر نوعیت کی وزارتوں کو وفاق کے پاس برقرار رکھنا درست نہیں، جبکہ ICT سے متعلق امور متعلقہ وفاقی ڈویژن تک محدود رہنے چاہئیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ ایسے وفاقی ادارے اور سرکاری کارپوریشنز جو صوبائی یا سی سی آئی کے دائرہ اختیار سے متعلق شعبوں میں غیر آئینی طور پر برقرار ہیں، انہیں بند یا صوبوں کو منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں، تاہم ملازمین کے حقوق متاثر نہ ہوں۔
میڈیا کے حوالے سے کمیٹی نے پرنٹ میڈیا کے ریگولیٹری معاملات صوبوں کو منتقل کرنے کی ہدایت کی جبکہ وزارت اطلاعات سے گزشتہ تین سال کے دوران اخبارات اور ٹی وی چینلز کو جاری کیے گئے سرکاری اشتہارات کی مکمل تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ کمیٹی نے میڈیا اداروں، خصوصاً اخبارات پر سرکاری اشتہارات کے ذریعے دباؤ ڈالنے کے عمل پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ 18ویں ترمیم کے حقیقی مقاصد پر عملدرآمد سے وفاقی اخراجات کم، صوبائی خودمختاری مضبوط اور ملکی مالیاتی بوجھ میں کمی لائی جاسکتی ہے، جس سے بیرونی مالی امداد اور آئی ایم ایف پر انحصار بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔
سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ قواعدِ کاروبار میں مطلوبہ ترامیم کرکے 15 روز کے اندر اپنی رپورٹ کمی