پمز کی نرسری میں ہولناک آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق؛ وزیراعظم کا نوٹس، تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا حکم

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی دارالحکومت کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں بدھ کی صبح پیش آنے والے دلخراش آتشزدگی کے واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا، جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سانحے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا حکم دے دیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آتشزدگی پمز کے گائنی وارڈ سے منسلک ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر قائم نرسری میں صبح تقریباً سات بجے کے قریب ہوئی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں خرابی یا اس کے پھٹنے کو قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

آگ بھڑکنے کے وقت نرسری میں زیرعلاج نومولود بچے موجود تھے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق عملے نے فوری طور پر بچوں کو نکالنے کی کوشش کی، تاہم آگ اور دھویں کی شدت کے باعث 14 معصوم بچے جانبر نہ ہوسکے۔ ایک بچے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ امدادی کارروائی میں فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیوں اور ایمبولینسز نے حصہ لیا اور آگ پر قابو پانے کے بعد متاثرہ حصے میں کولنگ کا عمل بھی مکمل کیا گیا

واقعے کے بعد حکام نے آتشزدگی کی وجوہات جاننے اور کسی ممکنہ غفلت یا حفاظتی انتظامات میں کوتاہی کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جو آگ لگنے کی وجوہات، حفاظتی انتظامات اور واقعے کے دوران اختیار کیے گئے طریقہ کار کا جائزہ لے گی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز نرسری میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کا نوٹس لیا ہے۔ وزیراعظم نے حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ساتھ ایسی صورتحال ناقابلِ تلافی ہے، واقعے کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

وزیراعظم نے جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کے والدین اور لواحقین سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اس اندوہناک واقعے پر ان کا دل رنجیدہ ہے اور وہ غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سوگوار خاندانوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

ادھر واقعے نے سرکاری ہسپتالوں خصوصاً نومولود بچوں کے وارڈز میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ، بجلی اور ایئرکنڈیشننگ سسٹم سمیت حفاظتی انتظامات پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکام کی جانب سے جاری تحقیقات میں ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لیے جانے کا امکان ہے۔

اہم: جاں بحق ہونے والے بچوں کے نام، ان کے والدین کی شناخت اور ان کے آبائی علاقوں یا رہائش گاہوں کی مکمل فہرست تاحال سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئی

اپنا تبصرہ لکھیں