ترلائی ایگرو فارم نمبر 13 کا معاملہ، عدالتی کاغذات غائب ہونے اور مبینہ این ڈی سی جاری کرنے کے الزامات، فوری انکوائری کا مطالبہ

ترلائی اسکیم کے ایگرو فارم نمبر 13 سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آگیا، جہاں فائل سے عدالتی مقدمے سے متعلق کاغذات مبینہ طور پر نکالنے اور بعد ازاں این ڈی سی جاری کیے جانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے چیئرمین سے فوری مداخلت کی درخواست کی گئی ہے۔

چیئرمین کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ زفیر احمد نے مبینہ طور پر ایگرو فارم نمبر 13 کی فائل سے عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے کے کاغذات نکالے، جس کے بعد سابق ڈپٹی ڈائریکٹر EM-II میاں عثمان کی مبینہ معاونت سے این ڈی سی جاری کیا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق اتنے سنگین الزامات کے باوجود اب تک معاملے کی مکمل اور باقاعدہ انکوائری نہیں کی گئی۔

درخواست میں ایک ویڈیو کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس کے بارے میں درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ اس میں زفیر احمد کو ایڈیشنل ڈائریکٹر ضیاء شاہ کے کمرے میں موجود ہو کر سرکاری فائلیں چیک کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم ویڈیو اور اس میں موجود سرگرمیوں کی آزادانہ تصدیق متعلقہ اداروں کی تحقیقات کے ذریعے ہونا ضروری ہے۔

درخواست گزار نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ زفیر احمد مبینہ طور پر ضیاء شاہ کے فرنٹ مین کے طور پر کام کرتے رہے ہیں، جبکہ ان کے برادرِ نسبتی یاسر حمید کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر بوگس فائلوں کی تیاری اور ہینڈلنگ کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ ان الزامات کی بھی باقاعدہ تحقیقات اور ریکارڈ کی جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

درخواست میں سابق ڈی جی لینڈ کی جانب سے زفیر احمد کو لینڈ اینڈ ری ہیبلیٹیشن ڈیپارٹمنٹ میں آنے سے روکنے کے لیے جاری کیے گئے مبینہ خط کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق اس سابقہ ہدایت اور موجودہ الزامات کے باعث معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات مزید ضروری ہو جاتی ہیں۔

درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایگرو فارم نمبر 13 کی اصل فائل، عدالتی کیس کا ریکارڈ، این ڈی سی جاری کرنے کا طریقہ کار، متعلقہ سرکاری خط و کتابت، فائل موومنٹ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر دستیاب شواہد کا جائزہ لیا جائے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ریکارڈ اور شواہد کی مکمل جانچ کے ذریعے یہ تعین کیا جا سکتا ہے کہ عدالتی کاغذات فائل سے کیسے اور کس کے ذریعے نکالے گئے اور این ڈی سی کس بنیاد پر جاری کیا گیا۔

درخواست گزار نے چیئرمین سے اپیل کی ہے کہ معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے، حقائق سامنے لائے جائیں اور اگر کسی افسر یا فرد کی ذمہ داری ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے

اپنا تبصرہ لکھیں