وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد میں تاخیر، وفاقی وزارتوں کو سخت ہدایات

اسلام آباد: وزیراعظم آفس نے وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد کے دوران مناسب تدبر، فالو اَپ اور بین الوزارتی رابطہ کاری میں کوتاہی کا نوٹس لیتے ہوئے تمام وفاقی وزارتوں اور متعلقہ اداروں کو سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔
18 اگست 2026 کو جاری وزیراعظم آفس کے مراسلے کے مطابق وزیراعظم نے حالیہ اہم عوامی مفاد کے معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ متعلقہ وزارت کی جانب سے وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد کے لیے مطلوبہ سطح کی Due Diligence اور Follow-up نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں فیصلوں پر عملدرآمد میں قابلِ گریز تاخیر ہوئی۔



مراسلے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ معاملے میں بین الوزارتی رابطہ کاری بھی مؤثر نہیں تھی جبکہ پوری توجہ مطلوبہ نتائج کے بجائے صرف کارروائی مکمل کرنے کے عمل پر مرکوز رہی۔ اس صورتحال کے باعث وزیراعظم کی ہدایات کے بنیادی مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے اور قانونی و انتظامی پیچیدگیاں بھی پیدا ہوئیں۔
وزیراعظم نے اس صورتحال پر سنجیدہ تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ آئندہ:
وزیراعظم کی پالیسی ہدایات پر بروقت اور مکمل عملدرآمد کیا جائے۔
صرف فائل ورک یا رسمی کارروائی مکمل کرنے کے بجائے مطلوبہ نتائج کے حصول پر توجہ دی جائے۔
وزیراعظم کی ہدایات کو مکمل انجام تک پہنچایا جائے تاکہ عوامی مفاد کے معاملات جامع انداز میں حل ہوں۔
ضرورت پڑنے پر متعلقہ وزارتوں کے درمیان فعال اور نتیجہ خیز رابطہ کاری کی جائے۔
اعلیٰ افسران کی کارکردگی میں ذاتی اقدام، پیشہ ورانہ مہارت، تجربے اور تجزیاتی صلاحیت کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے۔
وزیراعظم آفس نے تمام وفاقی سیکریٹریز کو ہدایت کی ہے کہ وزیراعظم کی ہدایات کی نگرانی اور بروقت عملدرآمد کے لیے مضبوط داخلی نظام قائم کیے جائیں اور ہر مرحلے پر مناسب فالو اَپ یقینی بنایا جائے۔
مراسلہ وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات سمیت متعدد وفاقی وزارتوں، ڈویژنز، خودمختار اداروں اور متعلقہ محکموں کو بھجوایا گیا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کی کوتاہیوں کا دوبارہ سامنے آنا سنجیدگی سے لیا جائے گا

اپنا تبصرہ لکھیں