سول ڈیفنس پنجاب میں مبینہ بدعنوانی کا بڑا اسکینڈل، 12 پیڈ والنٹیئرز برطرف، 37 افسران و اہلکار معطل

اسلام آباد(انوسٹیگیشن سیل )سول ڈیفنس پنجاب میں مبینہ کرپشن، بدعنوانی، نااہلی اور سرکاری فرائض میں بے ضابطگیوں کے خلاف بڑا محکمانہ ایکشن سامنے آگیا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق 12 پیڈ والنٹیئرز کو مبینہ کرپٹ پریکٹسز اور مس کنڈکٹ کے الزامات پر فوری طور پر خدمات سے فارغ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ الگ حکم نامے کے تحت 37 افسران و اہلکاروں کو 90 روز کے لیے معطل کرکے ان کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق برطرف کیے جانے والے پیڈ والنٹیئرز میں سرگودھا کے فرمان اللہ، خوشاب کے نوید، ملتان کے محمد ارشاد اور ناصر اقبال، لودھراں کے اصغر، گوجرانوالہ کے رحمان مقبول اور حمزہ بلال بٹ، حافظ آباد کے امان اللہ اور فیضان، نارووال کے شریف جبکہ بہاولپور کے بشیر احمد اور شبیر احمد شامل ہیں۔

دوسری جانب 4 ستمبر 2026 کے حکم نامے میں سول ڈیفنس افسر، اسسٹنٹس، سینئر کلرکس، چیف انسٹرکٹرز، انسٹرکٹرز، ریسکیو لیڈر، ریسکیور، فرسٹ ایڈر، ڈرائیور، نائب قاصد اور سینیٹری ورکر سمیت 37 ملازمین کو معطل کیا گیا ہے۔ معطل ملازمین کو سول ڈیفنس پنجاب ہیڈکوارٹر رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

دستاویز کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ کارروائی محض انتظامی تبادلوں تک محدود نہیں رہی بلکہ پیڈا ایکٹ کے تحت باقاعدہ محکمانہ احتساب شروع کیا گیا ہے۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو برطرف پیڈ والنٹیئرز کے خلاف احکامات پر عملدرآمد جبکہ متعلقہ حکام کو معطل ملازمین کے معاملات میں مزید کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ کارروائی چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے تمام محکموں میں اندرونی احتساب اور جوابدہی یقینی بنانے کی ہدایات کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے سول ڈیفنس پنجاب کے انتظامی نظام اور نگرانی کے طریقہ کار پر بھی سوالات کھڑے کردئ

اپنا تبصرہ لکھیں