قومی سطح پر کرپشن کے خطرات کا جائزہ، نیب کا ایف آئی اے سے تین سالہ ریکارڈ طلب

30 وفاقی اداروں میں بدعنوانی کے خطرات کی نشاندہی، خریداری، ٹھیکوں، مالی معاملات اور سرکاری اثاثوں سے متعلق شکایات و مقدمات کا ڈیٹا مانگ لیا گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزیراعظم کے اقتصادی نظم و نسق اصلاحاتی پروگرام (PMEGR) کے تحت وفاقی اداروں میں بدعنوانی کے خطرات کا قومی سطح پر جائزہ لینے کا عمل تیز کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے اہم تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

نیب کے ڈائریکٹر جنرل (آپریشنز) امجد مجید اولکھ کی جانب سے 4 ستمبر 2026 کو ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کے نام جاری کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ کرپشن رسک اسیسمنٹ کے پہلے مرحلے میں 30 اداروں کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔ اس جائزے کا مقصد سرکاری اداروں میں بدعنوانی کے نظامی خطرات اور کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کرپشن کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرات رکھنے والے 10 وفاقی محکموں کی درجہ بندی کرنا ہے۔

خط کے مطابق کرپشن رسک اسیسمنٹ کے دوسرے مرحلے میں ایف آئی اے سے مذکورہ 30 اداروں سے متعلق سال 2023ء سے 2025ء تک تین سال کا ریکارڈ فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔ نیب نے ایف آئی اے کو اس مقصد کے لیے مخصوص ٹیمپلیٹس بھی ارسال کیے ہیں۔

نیب نے ایف آئی اے سے سرکاری خریداری (Procurement) سے متعلق شکایات، انکوائریز، تحقیقات، ایف آئی آرز اور چالان کا ڈیٹا طلب کیا ہے۔ اس میں ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں، ملی بھگت سے بولیاں، کک بیکس، خریداری کے قواعد کی خلاف ورزیاں، زائد بلنگ، فرضی خریداری، جعلی یا فرضی سپلائرز اور خریداری کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے جیسے معاملات شامل ہیں۔

اسی طرح ٹھیکوں (Contracts) سے متعلق شکایات، تحقیقات، ایف آئی آرز اور چالان کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں، جن میں غیر قانونی طور پر ٹھیکوں کی منظوری، جعلی پرفارمنس گارنٹیز، گھوسٹ پیمنٹس اور دیگر متعلقہ بے ضابطگیاں شامل ہیں۔

خط میں مالیاتی انتظام سے متعلق مقدمات اور شکایات کا ریکارڈ بھی مانگا گیا ہے، جس میں سرکاری فنڈز میں خردبرد، کک بیکس، غیر مجاز رقوم نکلوانے یا ادائیگیوں، فراڈ اور دھوکہ دہی کے کیسز شامل ہیں۔

نیب نے سرکاری اثاثوں کے انتظام سے متعلق شکایات، انکوائریز، تحقیقات، ایف آئی آرز اور چالان کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ اس زمرے میں سرکاری اثاثوں کی غیر قانونی فروخت، سرکاری املاک کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور منقولہ و غیر منقولہ سرکاری اثاثوں کے غلط استعمال سے متعلق معاملات شامل ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا اقسام کے علاوہ اگر کسی معاملے میں بدعنوانی کی نوعیت مختلف ہو تو اسے “دیگر” (Others) کے طور پر الگ درج کیا جائے۔

نیب نے ایف آئی اے سے مطلوبہ معلومات 15 ستمبر 2026 تک نرم اور ہارڈ فارم دونوں میں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ خط کی ایک نقل ایف آئی اے کے ڈائریکٹر/چیف آف اسٹاف کو بھی ارسال کی گئی ہے۔

یہ اقدام وزیراعظم کے اقتصادی نظم و نسق اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت وفاقی اداروں میں بدعنوانی کے خطرات کی نشاندہی اور ان کے تدارک کی کوششوں کا حصہ ہے۔ حکومت کے اقتصادی اصلاحاتی منصوبے میں بھی ادارہ جاتی سطح پر کرپشن رسک اسیسمنٹ کے ذریعے زیادہ خطرات والے محکموں کی نشاندہی اور ان کے لیے تدارکی ایکشن پلان تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے

اپنا تبصرہ لکھیں