سیفرون سٹی میں مبینہ اوور سیلنگ کا معاملہ، RDA کے منظور شدہ نقشے سے مختلف نقشہ مارکیٹ میں زیرِ گردش

سہیل مارکیٹنگ کے نمائندے کی جانب سے مبینہ طور پر متبادل نقشے پر سیل پرچیز جاری ہونے کی تصدیق، RDA ریکارڈ اور مارکیٹنگ نقشے کے تقابلی جائزے کا مطالبہ

راولپنڈی (نمائندہ خصوصی) سیفرون سٹی ہاؤسنگ پروجیکٹ میں مبینہ اوور سیلنگ اور RDA سے منظور شدہ لے آؤٹ پلان سے ہٹ کر نقشہ مارکیٹ میں استعمال کیے جانے کے حوالے سے اہم سوالات اٹھ گئے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق سیفرون سٹی کے لیے RDA سے منظور شدہ لے آؤٹ پلان موجود ہے، تاہم مارکیٹ میں ایک ایسا نقشہ بھی گردش کر رہا ہے جو مبینہ طور پر منظور شدہ نقشے سے مختلف ہے اور اسی نقشے کی بنیاد پر پلاٹوں کی سیل پرچیز جاری ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سیفرون سٹی کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان میں مخصوص تعداد میں رہائشی و کمرشل پلاٹس کی گنجائش رکھی گئی ہے، جبکہ مارکیٹ میں گردش کرنے والے متبادل نقشے میں پلاٹوں کی تقسیم اور تعداد کے حوالے سے مبینہ طور پر نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ یہی فرق مبینہ اوور سیلنگ کے معاملے کو مزید اہم بنا رہا ہے۔

اس معاملے پر جب سہیل مارکیٹنگ کمپنی کے نمائندے سے تفصیلات دریافت کی گئیں تو ان کی جانب سے مبینہ طور پر ایک نقشہ فراہم کیا گیا اور بتایا گیا کہ اسی نقشے کی بنیاد پر سیفرون سٹی کے پلاٹوں کی سیل پرچیز کی جا رہی ہے۔ اگر مذکورہ نقشہ RDA کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان کا حصہ نہیں تو یہ صورتحال متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے ایک اہم سوال پیدا کرتی ہے کہ مارکیٹنگ اور پلاٹوں کی فروخت کس منظور شدہ پلان کے تحت کی جا رہی ہے

تحقیقاتی جائزے کے مطابق معاملے کی اصل حقیقت جاننے کے لیے RDA کی جانب سے منظور کیے گئے اصل Layout Plan (LOP)، بعد ازاں جاری کیے گئے Marketing NOC اور مارکیٹ میں استعمال ہونے والے نقشے کا باقاعدہ تقابلی جائزہ ضروری ہے۔ اسی طرح سیفرون سٹی انتظامیہ کی جانب سے اب تک فروخت، بکنگ یا مارکیٹنگ کے لیے پیش کیے جانے والے پلاٹوں کا مکمل ریکارڈ بھی سامنے آنا چاہیے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا منظور شدہ تعداد سے زیادہ پلاٹس مارکیٹ میں فروخت یا پیش کیے گئے یا نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر منظور شدہ لے آؤٹ پلان میں درج پلاٹوں کی تعداد اور مارکیٹنگ میں پیش کیے جانے والے پلاٹوں کی تعداد میں نمایاں فرق ثابت ہو جاتا ہے تو معاملہ محض نقشے کے اختلاف تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مبینہ اوور سیلنگ اور ریگولیٹری شرائط کی خلاف ورزی کے حوالے سے بھی تحقیقات کا متقاضی ہوگا۔

دوسری جانب عوامی حلقوں نے RDA سے مطالبہ کیا ہے کہ سیفرون سٹی کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور مارکیٹ میں گردش کرنے والے نقشے کی حیثیت واضح کی جائے اور بتایا جائے کہ سیفرون سٹی کو مجموعی طور پر کتنے رہائشی اور کمرشل پلاٹس کی فروخت یا مارکیٹنگ کی اجازت دی گئی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ہاؤسنگ منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ منظور شدہ نقشہ، پلاٹوں کی تعداد اور مارکیٹنگ کی اجازت سے متعلق معلومات عوام کے سامنے واضح طور پر رکھی جائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی یا غلط فہمی کا بروقت ازالہ ہو سکے۔

واضح رہے کہ سیفرون سٹی انتظامیہ کا مؤقف بھی اس معاملے میں اہم ہے۔ انتظامیہ سے اس حوالے سے وضاحت طلب کی جانی چاہیے کہ مارکیٹ میں زیرِ گردش مذکورہ نقشہ کس ادارے یا اتھارٹی سے منظور شدہ ہے، اس پر کتنے پلاٹس کی فروخت کی جا رہی ہے اور آیا RDA نے منظور شدہ لے آؤٹ پلان میں بعد ازاں کوئی ترمیم یا نظرثانی کی ہے یا نہیں۔ اسی طرح RDA کا باضابطہ مؤقف بھی اس معاملے کی حتمی قانونی حیثیت واضح کرنے کے لیے ضروری ہ

اپنا تبصرہ لکھیں