سیفرون سٹی میں مبینہ اوور سیلنگ کے بعد مارکیٹنگ نیٹ ورک میں تبدیلیاں، انتظامی افراد کے منصوبہ چھوڑنے کا انکشاف

راولپنڈی: آر ڈی اے سے منظور شدہ سیفرون سٹی ہاؤسنگ پروجیکٹ میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر اوور سیلنگ، غیر منظور شدہ نقشے کے ذریعے فائلوں کی مارکیٹنگ اور طویل عرصے سے جاری خرید و فروخت کے معاملے کے بعد منصوبے سے وابستہ مارکیٹنگ کمپنیوں اور انتظامی افراد کے کردار پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق منصوبے کے ساتھ طویل عرصے سے کام کرنے والے بعض اہم افراد نے سیفرون سٹی سے علیحدگی اختیار کرلی ہے جبکہ کچھ افراد کے دیگر ہاؤسنگ پروجیکٹس میں کام شروع کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق سیفرون سٹی کا آر ڈی اے سے منظور شدہ منصوبہ 882 کنال رقبے پر مشتمل ہے، جبکہ منظور شدہ لے آؤٹ پلان میں اے، بی اور سی بلاکس شامل ہیں۔ تاہم، منصوبے کی مارکیٹنگ کے حوالے سے یہ سوال مسلسل زیرِ بحث ہے کہ آیا مارکیٹ میں فروخت کی جانے والی تمام فائلیں اور پلاٹ منظور شدہ لے آؤٹ پلان کے مطابق ہیں یا نہیں۔

تحقیقی طور پر سامنے آنے والے اہم نکات میں مبینہ طور پر ایک ایسے متبادل نقشے کا استعمال بھی شامل ہے جو منظور شدہ لے آؤٹ پلان سے مختلف بتایا جاتا ہے۔ الزام ہے کہ اسی نقشے کی بنیاد پر منظور شدہ منصوبے میں موجود گنجائش سے کہیں زیادہ پلاٹس کی مارکیٹنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں اصل زمین اور ممکنہ پلاٹوں کی تعداد کے مقابلے میں فائلوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوا۔ اس معاملے میں اوورسیز پاکستانیوں سمیت عام شہریوں کو فائلوں کی فروخت کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ منصوبے کی مارکیٹنگ تقریباً تین سال یا اس سے زائد عرصے سے جاری رہنے کے باوجود منظور شدہ لے آؤٹ پلان کی منظوری 2025ء میں سامنے آئی۔ اس تناظر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ منظوری سے قبل مارکیٹ میں کس نقشے، کس حیثیت اور کس قانونی بنیاد پر فائلوں اور پلاٹس کی خرید و فروخت کی جاتی رہی۔

دوسری جانب، منصوبے کے اے، بی اور سی بلاکس کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تاحال ان میں سے کوئی بھی منظور شدہ بلاک مکمل طور پر ترقی یافتہ نہیں، جبکہ فائل ہولڈرز کو بھی مکمل طور پر قبضہ یا پوزیشن دیے جانے کا معاملہ سامنے نہیں آیا۔ منصوبے میں اس وقت بنیادی طور پر زمین کی حد بندی اور دیگر ابتدائی نوعیت کے کام جاری ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مارکیٹ میں سیفرون سٹی کی مبینہ اوور سیلنگ کے اثرات کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مارکیٹ ویلیو اور ری سیل ویلیو میں فرق پیدا ہونا شروع ہوگیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جاتی ہے اور بعض مارکیٹنگ کمپنیوں کی سرگرمیوں میں بھی تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مارکیٹ میں موجود قیمتوں، فروخت شدہ فائلوں کی مجموعی تعداد اور اصل منظور شدہ پلاٹس کی تعداد کا باضابطہ تقابلی ریکارڈ سامنے آنا ضروری ہے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ اگر منظور شدہ نقشے سے زیادہ تعداد میں فائلیں یا پلاٹس مارکیٹ کیے گئے ہیں تو اس کی مکمل ذمہ داری، مارکیٹنگ کمپنیوں کا کردار، منصوبے کی انتظامیہ کی منظوری یا لاعلمی، اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی نگرانی سمیت متعدد سوالات کا جواب ضروری ہوگا۔

ذرائع کے مطابق سیفرون سٹی سے وابستہ بعض اہم انتظامی افراد کی علیحدگی اور دیگر ہاؤسنگ منصوبوں میں ان کی شمولیت نے بھی منصوبے کے مستقبل، مارکیٹنگ پالیسی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ تاہم ان افراد کے منصوبہ چھوڑنے کی اصل وجوہات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

سیفرون سٹی کے معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ 882 کنال کے منظور شدہ منصوبے کے مقابلے میں مارکیٹ میں کتنی فائلیں اور پلاٹس فروخت کیے گئے، ان میں سے کتنے منظور شدہ لے آؤٹ پلان کا حصہ ہیں، اور کتنی فائلیں ایسے نقشے یا بلاکس کی بنیاد پر فروخت ہوئیں جنہیں آر ڈی اے نے منظور نہیں کیا؟

اس کے علاوہ متعلقہ اداروں سے یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ 2025ء میں لے آؤٹ پلان کی منظوری سے قبل جاری رہنے والی مارکیٹنگ اور خرید و فروخت کی قانونی حیثیت کیا تھی، فائلوں کی مجموعی تعداد کتنی ہے، اور فائل ہولڈرز کو عملی طور پر قبضہ کب تک دیا جائے گا۔

یہ تمام سوالات محض سیفرون سٹی کے سرمایہ کاروں ہی نہیں بلکہ بالخصوص اوورسیز پاکستانیوں اور عام شہریوں کے مفادات سے بھی براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ آر ڈی اے منظور شدہ نقشے، اصل رقبے، منظور شدہ پلاٹس کی تعداد، مارکیٹ میں فروخت شدہ فائلوں کی تعداد اور استعمال ہونے والے نقشوں کا تقابلی آڈٹ کرائے تاکہ حقائق واضح ہوسکیں اور سرمایہ کاروں کے خدشات کا ازالہ کیا جائے

اپنا تبصرہ لکھیں