بہو ساس سے پوچھ کر آرام کرنے کیوں جائے؟ رابعہ انعم اور صبا فیصل آمنے سامنے آگئیں

چند ماہ قبل صبا فیصل نے ایک مارننگ شو میں شرکت کی تھی جہاں انہوں نے نئی نویلی دلہن سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی بہو ساس یا نند سے پوچھ کر سونے جاسکتی ہے، اداکارہ کی یہ بات سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی اور انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیں
دعا کرنی چاہیے کہ شادی اگر خاندان میں ہو تو پرانے رشتے خراب نہ ہوں: صبا فیصل
آج کل نوجوانوں میں سیکھنے کی جستجو نہیں، سب خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں: صبا فیصل
نئی دلہن کو آرام کرنے سے پہلے ساس یا نند سے پوچھ لینا چاہیے، صبا فیصل اپنے بیان پر تنقید کی زد میں
تاہم اب حال ہی میں میزبان رابعہ انعم نے ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے سینئر اداکارہ کا نام لیے بغیر کہا کہ مارننگ شو میں ایک بات کی گئی تھی کہ بہو کو ساس سے پوچھ کر سونا چاہیے، بہو کو پوچھنا چاہیے کہ وہ 15 منٹ کا آرام کر لے، ایسا کیوں؟

انہوں نے کہا کہ میں بہو ہوں، میری ساس نے مجھے ایسا کبھی نہیں بولا اور کبھی اس بات کی توقع نہیں کرتی کہ میری بھابھی میری امی سے یہ پوچھے، ہر کسی کو اپنی زندگی اپنے طریقے اور اپنے انداز میں گزارنے کا حق ہے۔

رابعہ انعم نے مزید کہا کہ ہم یہ باتیں کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں، اس بنیاد پر کہ ہم بھارتی کلچر کو لے کر آج تک چل رہے ہیں، بھارت میں تو بیوہ عورتوں کے ساتھ پتا نہیں کیا کچھ ہوتا ہے، کیا ہم بھی وہ سب کریں گے؟
رابعہ انعم کے اس ویڈیو کلپ کو صبا فیصل نے اپنے انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ آپ جیسے لوگ بھی اس طرح کی گفتگو کا حصہ بن سکتے ہیں ، صرف خود کو سمجھدار ثابت کرنے کیلئے اور سال میں ایک صرف ایک مہینے میں دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کے واسطے، اگر میری یہ بات اتنی غلط ہے تو اسے آپ اتنا قیمتی وقت کیوں دے رہی ہیں؟

اپنا تبصرہ لکھیں