وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مستحکم بنانے کے لیے ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے میں عالمی معیار کے مطابق مؤثر ریگولیٹری نظام کی جلد تکمیل اور مکمل فعالیت کی ہدایت جاری کر دی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مستحکم بنانے کے لیے ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے میں عالمی معیار کے مطابق مؤثر ریگولیٹری نظام کی جلد تکمیل اور مکمل فعالیت کی ہدایت جاری کر دی۔

یہ ہدایات انہوں نے وزیر مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب سے ملاقات کے دوران دیں، جس میں پاکستان میں ڈیجیٹل فنانس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے اس موقع پر زور دیا کہ نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں، خصوصاً مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل فنانس جیسے شعبوں میں تربیت فراہم کر کے ملک کی افرادی قوت کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید مہارتوں سے لیس نوجوان نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط بنائیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی نمائندگی کر سکیں گے۔

ملاقات کے دوران بلال بن ثاقب نے وزیراعظم کو اتھارٹی کی پیش رفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارے کو آپریشنل ریگولیٹر میں تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے، جبکہ ریگولیٹری سینڈ باکس کے آغاز کے ذریعے نئی ٹیکنالوجیز اور مالیاتی ماڈلز کو محفوظ ماحول میں آزمانے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اے آئی سے چلنے والی ادائیگیوں، ریگولیٹڈ ورچوئل اثاثہ جات کی خدمات اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں جدت لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقبل کی معاشی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے قومی اداروں، افرادی قوت اور ریگولیٹری فریم ورک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔

حکومتی سطح پر اس پیش رفت کو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملک کی مسابقتی صلاحیت بھی بہتر ہو

یہ ہدایات انہوں نے وزیر مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب سے ملاقات کے دوران دیں، جس میں پاکستان میں ڈیجیٹل فنانس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے اس موقع پر زور دیا کہ نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں، خصوصاً مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل فنانس جیسے شعبوں میں تربیت فراہم کر کے ملک کی افرادی قوت کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید مہارتوں سے لیس نوجوان نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط بنائیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی نمائندگی کر سکیں گے۔

ملاقات کے دوران بلال بن ثاقب نے وزیراعظم کو اتھارٹی کی پیش رفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارے کو آپریشنل ریگولیٹر میں تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے، جبکہ ریگولیٹری سینڈ باکس کے آغاز کے ذریعے نئی ٹیکنالوجیز اور مالیاتی ماڈلز کو محفوظ ماحول میں آزمانے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اے آئی سے چلنے والی ادائیگیوں، ریگولیٹڈ ورچوئل اثاثہ جات کی خدمات اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں جدت لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقبل کی معاشی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے قومی اداروں، افرادی قوت اور ریگولیٹری فریم ورک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔

حکومتی سطح پر اس پیش رفت کو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملک کی مسابقتی صلاحیت بھی بہتر ہو

اپنا تبصرہ لکھیں