کراچی میں بڑے غیر قانونی کال سینٹرز پر این سی سی آئی اے کا کریک ڈاؤن!
ڈی جی این سی سی آئی اے سید خرم علی کے احکامات پر کراچی میں بڑی کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران غیر قانونی کال سینٹرز کو بے نقاب کر دیا گیا۔ کارروائیاں ڈی ایچ اے فیز 8 اور پی ای سی ایچ ایس کے علاقوں میں کی گئیں جہاں مبینہ طور پر منظم انداز میں فراڈ سرگرمیاں جاری تھیں۔ چھاپوں کے دوران متعدد ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ اہم ڈیجیٹل شواہد بھی برآمد ہوئے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان غیر ملکی بینک اہلکار بن کر شہریوں سے فراڈ کرنے میں ملوث تھے۔ اسپوفنگ کالز کے ذریعے حساس بینکاری معلومات حاصل کرنے کا نیٹ ورک بھی سامنے آیا ہے۔ کارروائی کے دوران ہزاروں غیر ملکی شہریوں کا ڈیٹا، لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات قبضے میں لے لیے گئے، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق دونوں مقدمات پیکا ایکٹ کے تحت (FIR نمبر 53/26 اور 54/26) درج کر لیے گئے ہیں اور گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ سائبر فراڈ اور غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنانے والے نیٹ ورکس کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جائے گا۔
🤔 کیا آپ کے خیال میں سائبر فراڈ روکنے کے لیے مزید سخت قوانین ضروری ہیں؟
💬👇 اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔