برطانوی تحقیقی رپورٹ میں معرکۂ حق سے متعلق پاکستان کے مؤقف پر روشنی، عسکری و سفارتی پہلوؤں کا جائزہ
اسلام آباد (اداریہ نیوز):
برطانوی تحقیقی و تجزیاتی ادارے پاکستان پلے بک (Pakistan Playbook) کی ایک رپورٹ میں معرکۂ حق کے دوران پاکستان کی عسکری حکمت عملی، فضائی دفاع اور سفارتی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مختلف بین الاقوامی ذرائع اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر پاکستان کی عسکری اور سفارتی کارکردگی پر تبصرہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق معرکۂ حق کے دوران پاکستان نے اپنی دفاعی حکمت عملی اور پیشہ ورانہ عسکری صلاحیتوں کا مؤثر مظاہرہ کیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دوران متعدد بھارتی جنگی طیارے، جن میں رافیل طیارے بھی شامل تھے، تباہ ہوئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی اور فرانسیسی انٹیلی جنس حکام سمیت بھارت کے بعض اعلیٰ دفاعی عہدیداروں کے بیانات کو ان دعوؤں کی تائید کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معرکۂ حق کے بعد پاکستان نے اپنی سفارتی سرگرمیوں میں بھی نمایاں پیش رفت کی۔ رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مختلف ممالک، خصوصاً امریکہ سمیت اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا، جس سے پاکستان کی سفارتی پوزیشن مستحکم ہوئی۔
رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان کے مضبوط فضائی دفاعی نظام کے باعث بھارتی ڈرونز اپنے اہداف حاصل کرنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوئے، جبکہ پاکستان کے کسی جنگی طیارے کے نقصان کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ مزید کہا گیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود پاکستان نے جدید عسکری حکمت عملی اور پیشہ ورانہ مہارت کی بدولت اپنی دفاعی صلاحیتوں کا مؤثر مظاہرہ کیا۔
رپورٹ میں پاکستان کے جے-10 سی اور بھارت کے رافیل طیاروں کی لاگت کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ کم لاگت کے باوجود پاکستان نے مؤثر دفاعی حکمت عملی اپنائی۔ اسی طرح رپورٹ میں بھارت کو بھاری مالی نقصانات اٹھانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق معرکۂ حق کے بعد یورپی یونین سمیت مختلف عالمی اداروں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی، جس سے ملک کی عالمی ساکھ اور سفارتی وقار میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن کوششوں میں پاکستان کے کردار کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔
رپورٹ کے اختتام پر اس مؤقف کا اظہار کیا گیا ہے کہ جدید جنگوں میں کامیابی صرف دفاعی اخراجات سے نہیں بلکہ عسکری قیادت کی بصیرت، پیشہ ورانہ مہارت، مؤثر حکمت عملی اور فعال سفارت کاری سے بھی وابستہ ہوتی ہے۔
اس خبر میں شامل بعض عسکری اور مالی نقصانات سے متعلق دعوے مذکورہ تحقیقی رپورٹ سے منسوب ہیں اور ان کی آزاد ذرائع سے تصدیق اس خبر میں شامل نہیں ہے۔