امریکی کانگریس میں اسرائیل کی 3.3 ارب ڈالر سالانہ فوجی امداد ختم کرنے کی تجویز، رواں ہفتے ووٹنگ متوقع

امریکی کانگریس میں اسرائیل کی 3.3 ارب ڈالر سالانہ فوجی امداد ختم کرنے کی تجویز، رواں ہفتے ووٹنگ متوقع

اسلام آباد (اداریہ نیوز):
امریکی کانگریس میں اسرائیل کو دی جانے والی **3.3 ارب ڈالر** کی سالانہ فوجی امداد ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے، جس پر رواں ہفتے ایوانِ نمائندگان میں ووٹنگ متوقع ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر امریکی سیاست میں اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں۔

ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس **گریگ کاسر** نے اعلان کیا ہے کہ وہ ریپبلکن رکن **تھامس میسی** کی جانب سے پیش کی گئی ترمیم کی حمایت کریں گے۔ مجوزہ ترمیم میں اسرائیل کے لیے مختص 3.3 ارب ڈالر کی سالانہ فوجی امداد ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

گریگ کاسر نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیلی حکومت نے غزہ میں جنگ کے دوران بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور امریکا کو ایران کے ساتھ کشیدگی میں الجھانے میں بھی کردار ادا کیا، اس لیے امریکی ٹیکس دہندگان کے فنڈز سے مزید فوجی معاونت فراہم نہیں کی جانی چاہیے۔

مجوزہ ترمیم کے تحت صرف سالانہ فوجی امداد ہی نہیں بلکہ امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ میں اسرائیل کے لیے مختص دیگر مالی فنڈز ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اگرچہ اس ترمیم کی منظوری کے امکانات محدود سمجھے جا رہے ہیں، تاہم اس اقدام نے امریکی کانگریس میں اسرائیل کے لیے امریکی امداد سے متعلق جاری بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

امریکی سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاملے پر ہونے والی ووٹنگ سے یہ اندازہ لگایا جا سکے گا کہ غزہ جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال کے تناظر میں امریکی قانون سازوں کی رائے کس حد تک تبدیل ہو رہی ہے۔

آپ کی رائے میں کیا امریکا کو اسرائیل کے لیے فوجی امداد جاری رکھنی چاہیے یا اس پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں