پمز سانحہ، انکوائری رپورٹ میں سنگین انتظامی غفلت بے نقاب، 8 افسران کے خلاف کارروائی کا حکم

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پمز ہسپتال میں 14 نومولود بچوں کی المناک ہلاکت کے واقعہ کی تحقیقات کرنے والی اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں ہسپتال کے فائر سیفٹی اور ہنگامی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھا دیے گئے۔ رپورٹ میں پمز کی سہولیات اور علاج کے معیار کو عالمی معیار سے کم قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پمز میں آگ لگنے یا کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (SOPs) اور مناسب تربیت موجود نہیں تھی۔ ہسپتال کے 13 ایس او پیز میں صرف دو مقامات پر آگ یا ہنگامی صورتحال سے متعلق ہدایات شامل تھیں، جبکہ واقعہ کے وقت متعلقہ سپروائزری عملہ بھی ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔

انکوائری کمیٹی کو بتایا گیا کہ آگ نے تقریباً دو منٹ میں پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ متاثرہ نرسری میں 15 نومولود بچے موجود تھے جن میں سے صرف ایک بچے کو نرس رضیہ نورین نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچایا۔ وزیراعظم نے نرس کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں ستارۂ خدمت اور 10 لاکھ روپے نقد انعام دینے کی منظوری بھی دی۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ نرسری میں فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا جبکہ ہسپتال میں آگ یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی باقاعدہ ذمہ دار افسر بھی تعینات نہیں تھا۔ انکوائری میں پمز کی خستہ حال عمارت اور انتظامی بدانتظامی کو بھی اہم مسائل قرار دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت متعدد اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی، جس کے بعد وزیراعظم نے آٹھ افسران کو معطل کرنے اور ان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ رپورٹ میں یہ امر بھی سامنے آیا کہ سانحہ سے ایک ماہ قبل پمز نرسنگ ہاسٹل میں بھی آگ لگی تھی، تاہم اس واقعہ کے بعد ہسپتال میں مؤثر حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے۔ وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ تحقیقات مکمل کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے

اپنا تبصرہ لکھیں