مارکۂ حق — پاکستان کی قومی یکجہتی، افواجِ پاکستان کی عظیم کامیابی اور دنیا کے لیے واضح پیغام

چوہدری جا وید بھاگٹ

وموں کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جو صرف ایک کامیابی نہیں ہوتے بلکہ وہ قومی غیرت، اتحاد، قربانی اور وقار کی نئی تعبیر بن جاتے ہیں۔ “مارکۂ حق” بھی پاکستان کی تاریخ کا ایسا ہی ایک روشن باب ہے جس نے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار، باوقار اور ناقابلِ تسخیر ریاست ہے، اور اس کی حفاظت کے لیے پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے۔

اس کامیابی میں افواجِ پاکستان نے جس پیشہ ورانہ مہارت، بہادری اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، وہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن گیا۔ بری، بحری اور فضائی افواج نے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا اور یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت صرف مضبوط ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دینے کی مکمل قدرت رکھتی ہے۔

خصوصاً سپہ سالار، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت نے اس پورے مرحلے میں ایک مضبوط، پُراعتماد اور غیر متزلزل کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے نہ صرف دشمن کو واضح پیغام دیا بلکہ پوری قوم کے اعتماد کو بھی مزید مضبوط کیا۔ ان کی حکمت، استقامت اور قومی سلامتی کے لیے غیر متزلزل عزم نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کا سپہ سالار صرف عسکری قیادت ہی نہیں بلکہ قومی وحدت اور استحکام کی علامت بن کر ابھرا۔

اسی طرح حکومتِ پاکستان نے بھی دانشمندانہ سفارتی حکمتِ عملی اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے مؤثر کردار ادا کیا۔ سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی نے پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مضبوط بنایا۔ یہ امر خوش آئند رہا کہ ملک کی سیاسی جماعتیں اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی سلامتی کے معاملے پر ایک صفحے پر دکھائی دیں۔ یہی قومی اتحاد دراصل پاکستان کی اصل طاقت ہے۔

اس معرکے میں پاکستانی میڈیا کا کردار بھی قابلِ تحسین رہا۔ قومی میڈیا نے ذمہ داری، حب الوطنی اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کے ذریعے نہ صرف قوم کے حوصلے بلند کیے بلکہ دنیا تک پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پہنچایا۔ جھوٹے پروپیگنڈے اور منفی بیانیے کے مقابلے میں پاکستانی میڈیا نے دلیل، حقیقت اور قومی مفاد کو ترجیح دے کر ایک مثبت مثال قائم کی۔

اس عظیم کامیابی کا سب سے روشن پہلو پاکستانی عوام کا جذبہ تھا۔ قوم نے جس اتحاد، صبر، دعا اور جذبۂ حب الوطنی کا مظاہرہ کیا، اس نے دشمن کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔ گلیوں، بازاروں، سوشل میڈیا اور ہر فورم پر پاکستانی عوام اپنی افواج کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ یہ صرف عسکری قوت نہیں تھی بلکہ ایک زندہ اور متحد قوم کی طاقت تھی جو دنیا کے سامنے آئی۔

تاہم اس کامیابی کی اصل قیمت وہ قربانیاں ہیں جو ہمارے شہداء نے دیں۔ پاک فوج، رینجرز، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے شہداء ہمارا فخر ہیں۔ ان کے لہو نے وطن کی مٹی کو مزید مقدس بنا دیا۔ قوم اپنے ان بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کے وقار اور سلامتی کو یقینی بنایا۔ شہداء کی مائیں، بہنیں اور خاندان پوری قوم کے لیے عزت و احترام کی علامت ہیں۔

دنیا نے اس معرکے میں یہ بھی دیکھا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر کمزوری ہرگز نہیں۔ اگر کسی نے پاکستان کی خودمختاری، افواجِ پاکستان یا قومی وقار کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی تو اسے بھرپور اور فیصلہ کن جواب ملے گا۔ پاکستان کی افواج ہر محاذ پر تیار ہیں، اور قوم اپنے محافظوں پر مکمل اعتماد رکھتی ہے۔

بھارت کو بھی اس مرحلے پر یہ احساس ہوا کہ جنگی جنون، دھمکیوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو دبایا نہیں جا سکتا۔ پاکستان نے تحمل، حکمت اور طاقت — تینوں کا متوازن استعمال کرتے ہوئے دنیا کو باور کرایا کہ خطے میں امن کا راستہ برابری، احترام اور انصاف سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ جارحیت اور غرور سے۔

“مارکۂ حق” صرف ایک کامیابی کا نام نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے اتحاد، عسکری قوت، سیاسی بصیرت، عوامی جذبے اور شہداء کی قربانیوں کی مشترکہ داستان ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب قوم متحد ہو، قیادت مضبوط ہو اور افواج بیدار ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو جھکا نہیں سکتی۔

پاکستان زندہ باد

اپنا تبصرہ لکھیں