امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی جانب اہم پیش رفت
ذرائع کا دعویٰ
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ): ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad Memorandum of Understanding)” پر آج الیکٹرانک طریقے سے دستخط کر دیے گئے ہیں۔
بیان کے مطابق، اس مفاہمتی یادداشت پر امریکا اور ایران کے صدور نے دستخط کیے، جبکہ ثالث کی حیثیت سے بھی اس معاہدے کی توثیق کی گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے اس معاہدے پر دستخط اس بات کا مظہر ہیں کہ فریقین تنازع کے سفارتی حل کے لیے سنجیدہ ہیں۔
بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، جس کے تحت پہلے مرحلے میں ایران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھول دے گا، جبکہ امریکا اپنی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرے گا۔
بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ ان کے امن پسند مؤقف نے ایک ایسے تنازع کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا جو خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا۔ ساتھ ہی امریکی مذاکراتی ٹیم، جن میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں، کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
ایرانی قیادت، سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی بصیرت اور امن کے لیے کردار کو بھی سراہا گیا، جبکہ ایرانی مذاکراتی ٹیم، بشمول محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی کوششوں کو معاہدے کی کامیابی میں اہم قرار دیا گیا۔
بیان میں ریاستِ قطر، مملکتِ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کی سفارتی معاونت کو بھی سراہا گیا۔
مزید کہا گیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی کوششوں کو علاقائی امن و استحکام کے لیے کلیدی قرار دیا گیا۔
بیان کے اختتام پر امید ظاہر کی گئی کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں باہمی احترام، افہام و تفہیم اور مشترکہ خوشحالی کی مضبوط بنیاد ثابت ہو گی