کشمیر روانگی سے روکنے پر اپوزیشن رہنماؤں کا احتجاج، پولیس کے احکامات پر سخت ردعمل
اسلام آباد ( میڈیا رپورٹرز):
آزاد کشمیر جانے سے روکے جانے پر اپوزیشن کی مرکزی قیادت اور رہنماؤں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ شاہد خاقان عباسی، محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پولیس کی جانب سے روکے جانے کے بعد موقع پر ہی گفتگو کرتے رہے اور اس اقدام کو غیر مناسب قرار دیا۔
شاہد خاقان عباسی نے پولیس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ” ہم نے ناکہ لگا لیا ہے، آپ آگے نہیں جا سکتے “ جیسا رویہ افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آزاد کشمیر جا کر وہاں جاری صورتحال اور احتجاج کی وجوہات پر بات کرنا چاہتے ہیں، مگر انہیں روکا جانا ایک منفی پیغام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور سینیٹ کو روکنا کسی بھی طور مثبت اقدام نہیں۔ ان کے مطابق اگر گاڑی نہیں جانے دی جاتی تو وہ پیدل بھی جانے کے لیے تیار ہیں، اور وہ اس وقت تک دھرنا دیں گے جب تک انہیں کشمیر جانے کی اجازت نہیں ملتی۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ان کا مقصد صرف کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور بات چیت ہے۔ ان کے مطابق اگر مطالبات جائز ہوئے تو وہ انہیں سنیں گے، ورنہ مشورہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں روک کر ایک غلط تاثر دیا جا رہا ہے۔
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان کی مرکزی قیادت کو کشمیر جانے سے روکنا ایک منفی پیغام ہے۔ ان کے مطابق پولیس نے بتایا کہ اوپر سے حکم آیا ہے، جو افسوسناک ہے کیونکہ منتخب قیادت کو اپنے ہی ملک میں آزادانہ نقل و حرکت سے روکا جا رہا ہے۔
رہنماؤں نے مشترکہ طور پر کہا کہ ان کا مقصد احتجاج یا تصادم نہیں بلکہ صرف بات چیت اور یکجہتی کا اظہار تھا، تاہم پولیس کی کارروائی نے صورتحال کو کشیدہ بنا دیا۔