پیٹرول سستا، مگر عوام کو ریلیف کب؟ کرایے اور اشیائے ضروریہ اب بھی مہنگی، شہری سوال اٹھانے لگے
اسلام آباد (رپورٹ ،جاوید بھاگٹ ):
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد حکومتِ پاکستان نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرکے عوام کو ریلیف دینے کا اعلان کیا۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں، کیونکہ پیٹرول سستا ہونے کے باوجود نہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی آئی اور نہ ہی روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کوئی واضح اثر دکھائی دیا۔
گزشتہ ہفتے حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کی تھی، جبکہ بعد ازاں نئی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ اس اقدام سے عوام کو مہنگائی کے بوجھ میں کچھ کمی محسوس ہوگی، مگر شہریوں کا کہنا ہے کہ عملی طور پر ایسا کوئی ریلیف نظر نہیں آ رہا۔
شہریوں کے مطابق جب بھی پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹرز فوری طور پر بسوں، ویگنوں، کوچز اور دیگر ذرائع آمدورفت کے کرایے بڑھا دیتے ہیں، جبکہ تاجروں کی جانب سے بھی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ لیکن جیسے ہی ایندھن کی قیمت کم ہوتی ہے، کرایے اور اشیاء کی قیمتیں جوں کی توں برقرار رہتی ہیں۔
پاکستان میں تقریباً ہر چیز کی قیمت کا تعلق ٹرانسپورٹ لاگت سے ہوتا ہے۔ سبزیاں، پھل، آٹا، چینی، دالیں، دودھ، گوشت اور دیگر ضروری سامان ایک شہر سے دوسرے شہر گاڑیوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے، اس لیے ایندھن سستا ہونے کی صورت میں ان اشیاء کی قیمتوں میں بھی کمی ہونی چاہیے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکومتی ادارے، ضلعی انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ اتھارٹیز فوری طور پر کرایوں کا ازسرنو تعین کریں اور مارکیٹوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مؤثر نگرانی کی جائے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا حقیقی فائدہ عام آدمی تک پہنچ سکے۔
عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی ریلیف صرف اعلانات تک محدود رہے اور اس کے اثرات بازاروں اور ٹرانسپورٹ نظام میں نظر نہ آئیں تو ایسے فیصلوں کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ شہریوں کے مطابق حقیقی ریلیف وہی ہوگا جو روزمرہ خریداری، سفری اخراجات اور گھریلو بجٹ میں واضح طور پر محسوس ہو۔
آپ کی رائے ہمارے لیے اہم ہے! 💬
کیا آپ کو لگتا ہے کہ پیٹرول سستا ہونے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی کم ہونی چاہئیں؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور دیں.