مرگلہ گارڈن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں مبینہ مالی بے ضابطگیاں؛ ایف آئی اے سے فوجداری تحقیقات کا مطالبہ
اسلام آباد (انوسٹی گیشن سیل )
اسلام آباد: مرگلہ گارڈن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی، جو پہلے منسٹری آف کامرس ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام سے رجسٹرڈ تھی، کی موجودہ مینجمنٹ کمیٹی کے خلاف مبینہ غیر قانونی ٹھیکوں، مالی بے ضابطگیوں، پلاٹوں کی دوہری الاٹمنٹ، جعلی ریکارڈ اور کوآپریٹو قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آ گئے ہیں۔

سوسائٹی کے ایک رجسٹرڈ رکن کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کو تحریری شکایت ارسال کی گئی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سوسائٹی کے معاملات کی جامع فوجداری تحقیقات کر کے مبینہ بدعنوانی، مالی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے غلط استعمال میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
شکایت کے مطابق موجودہ مینجمنٹ کمیٹی پر الزام ہے کہ سوسائٹی میں مرکزی سڑکوں کی تعمیر، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، سیوریج، پارکوں کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے متعدد ٹھیکے مبینہ طور پر قانونی اور مقررہ طریقہ کار پر عمل کیے بغیر دیے گئے۔ شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعض ترقیاتی کاموں کے لیے ایک ہی نوعیت کے متعدد ٹھیکے جاری کیے گئے، جبکہ ان کی لاگت مبینہ طور پر غیر معمولی حد تک بڑھا کر ظاہر کی گئی، جس سے سوسائٹی کو بھاری مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
دستاویز میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوسائٹی کے بینک اکاؤنٹس سے 50 کروڑ روپے سے زائد رقم مبینہ طور پر مشکوک حالات میں نکلوائی اور استعمال کی گئی۔ شکایت کنندہ کے مطابق اس رقم کے استعمال میں شفافیت، مناسب منظوری اور مؤثر احتساب کے حوالے سے سنگین سوالات موجود ہیں۔

شکایت میں سوسائٹی کے انتظامی اور ریکارڈ سے متعلق معاملات پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں:
• مختلف ارکان کو ایک ہی پلاٹ کی مبینہ دوہری الاٹمنٹ؛
• جعلی یا غیر مجاز ممبرشپ اور پلاٹ فائلوں کی مبینہ تیاری؛
• حقیقی ارکان کے پلاٹوں کی مبینہ غیر قانونی منسوخی؛
• منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور سوسائٹی کے نقشوں میں مبینہ غیر مجاز تبدیلیاں؛
• بلاکس کے نقشوں میں ردوبدل کے ذریعے ہزاروں غیر منظور شدہ پلاٹوں یا تقسیموں کا معاملہ؛
• سوسائٹی کے اندر مبینہ طور پر جعلی اور غیر قانونی ریکارڈ برقرار رکھنے کے الزامات شامل ہیں۔
شکایت میں ایک اور اہم نکتہ یہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ کوآپریٹو سوسائٹیز رولز کے رول 48 کے تحت نااہل قرار دیے جانے والے بعض افراد کو مبینہ طور پر سوسائٹی کی مختلف ذیلی کمیٹیوں میں شامل کیا گیا۔ شکایت کنندہ نے اس معاملے کی قانونی حیثیت اور متعلقہ تقرریوں کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق شکایت میں ایف آئی اے سے درخواست کی گئی ہے کہ سوسائٹی کے بینک اکاؤنٹس، ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں، ادائیگیوں، ممبرشپ ریکارڈ، پلاٹ الاٹمنٹ، منسوخیوں، لے آؤٹ پلان اور مینجمنٹ کمیٹی کے فیصلوں کا فرانزک اور مالیاتی آڈٹ کرایا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر غیر قانونی اقدامات سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی نشاندہی کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
معاملہ اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ مرگلہ گارڈن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں بڑی تعداد میں سرکاری و نجی ملازمین اور دیگر شہریوں کی سرمایہ کاری اور رہائشی مفادات وابستہ ہیں۔ اگر شکایت میں لگائے گئے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو اس کے سوسائٹی کے مالی معاملات، پلاٹوں کی ملکیت اور ہزاروں متاثرہ ارکان کے حقوق پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تاہم،سوسائٹی کی مینجمنٹ کمیٹی کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔ مینجمنٹ کمیٹی کا موقف موصول ہونے پر اسے بھی خبر میں شامل ک