اسلام آباد (انوسٹی گیشن سیلُ): اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ نے مارگلہ گارڈنز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی، راولپنڈی کی مینجنگ کمیٹی کو مبینہ بے ضابطگیوں اور ارکان کے مفادات کے خلاف اقدامات کے الزامات پر شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جواب اور ذاتی شنوائی کے لیے طلب کرلیا ہے۔
محکمہ کوآپریٹو کے ڈپٹی کمشنر/رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز، آئی سی ٹی اسلام آباد عرفان نواز میمن کی جانب سے 18 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سوسائٹی کی مینجنگ کمیٹی 6 جنوری 2025 کو نوٹیفائی ہوئی تھی، تاہم محکمہ کے مطابق کمیٹی نے چارج سنبھالنے کے بعد ایسے مختلف اقدامات کیے جو سوسائٹی کے ارکان کے مفادات کے خلاف قرار دیے گئے ہیں۔
شوکاز نوٹس میں سب سے اہم الزام سوسائٹی کی 679 کنال، 3 مرلہ اور 234 مربع فٹ قیمتی اراضی سے متعلق عائد کیا گیا ہے۔ محکمہ کوآپریٹو کے مطابق مذکورہ اراضی موضع وانی، تحصیل ٹیکسلا، ضلع راولپنڈی میں واقع ہے اور اسے کسی قانونی اختیار کے بغیر فروخت کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ تاہم یہ الزامات تاحال نوٹس میں درج محکمہ جاتی مؤقف ہیں اور ان پر سوسائٹی کمیٹی کا جواب آنا باقی ہے۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ مینجنگ کمیٹی کی جانب سے بائی لاز نمبر 34(30) اور 4(10) کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے سوسائٹی کے ماسٹر پلان/لی آؤٹ پلان کے برخلاف بالٹنگ اور ری پلاٹنگ کا عمل کیا گیا۔
تحقیقات کے حوالے سے ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آتا ہے کہ مارگلہ گارڈنز کی اپنی ویب سائٹ پر سوسائٹی کو 1987 میں رجسٹرڈ ہونے اور ٹیکسلا میونسپل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے 8 جولائی 2014 کو پلاننگ پرمیشن ملنے کا ذکر موجود ہے، جبکہ اسی ویب سائٹ پر یہ بھی درج ہے کہ سوسائٹی کا LOP حتمی منظوری کے لیے RDA کے پاس زیرِ منظوری ہے۔
محکمہ کوآپریٹو کے شوکاز نوٹس میں سوسائٹی کے ارکان کی جانب سے مینجنگ کمیٹی کے خلاف متعدد شکایات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ نوٹس کے مطابق شکایت کنندگان کی جانب سے اٹھائے گئے مبینہ غیر قانونی اقدامات اور دیگر تحفظات کا ازالہ نہیں کیا گیا۔
محکمہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مینجنگ کمیٹی سوسائٹی کا کاروبار کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 1925، اسلام آباد کوآپریٹو سوسائٹیز رولز 2018 اور سوسائٹی کے بائی لاز کے مطابق چلانے میں ناکام رہی، جس کے باعث فوری کارروائی کی ضرورت پیش آئی۔
شوکاز نوٹس میں رول 48، اسلام آباد کوآپریٹو سوسائٹیز رولز 2018 کا حوالہ دیتے ہوئے مینجنگ کمیٹی کو ہدایت کی گئی کہ وہ 22 ستمبر 2026 کو دوپہر 2 بجے ڈپٹی کمشنر/رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز، آئی سی ٹی اسلام آباد کے دفتر میں ذاتی شنوائی کے لیے پیش ہو اور اپنے تحریری جواب کے ساتھ مؤقف پیش کرے۔
نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ تاریخ پر جواب یا پیشی نہ ہونے کی صورت میں مینجنگ کمیٹی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب سوسائٹی کی اپنی ویب سائٹ پر انتظامیہ کی جانب سے سوسائٹی کو ایک باقاعدہ منصوبہ بند رہائشی منصوبہ قرار دیا گیا ہے اور موجودہ انتظامی ٹیم میں صدر رانا وحید اور سیکریٹری جنرل مظہر حسین کے نام درج ہیں۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جولائی 2026 میں سوسائٹی کی جانب سے مختلف کیٹیگریز کی منسوخ شدہ پلاٹ فائلوں سے متعلق اخباری نوٹس بھی شائع ہوئے تھے، جن میں متاثرہ ممبران کو واجبات اور دیگر معاملات کے حوالے سے سوسائٹی سے رابطے کی ہدایت کی گئی تھی۔

یوں مارگلہ گارڈنز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے معاملے میں قیمتی اراضی کی مبینہ فروخت، ماسٹر پلان کے برخلاف مبینہ ری پلاٹنگ، ممبران کی شکایات اور انتظامی قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں پر محکمہ کوآپریٹو کی جانب سے باضابطہ کارروائی شروع ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اب اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ مینجنگ کمیٹی محکمہ کوآپریٹو کے سامنے ان الزامات کا کیا جواب پیش کرتی ہے اور محکمہ اس جواب کی روشنی میں کیا قانونی فیصلہ کرتا ہ