شاہین انکلیو غیر قانونی ہاؤسنگ سکیم بے نقاب، عوام کے کروڑوں روپے ڈوبنے کا خدشہ

*اٹک / اسلام آباد(انوسٹی گیشن سیل )فتح جنگ روڈ پر واقع شاہین انکلیو موضع برہان، اسلام گڑھ اور دیگر مواضعات میں قائم ہاؤسنگ سکیم غیر قانونی قراردی گئی ہے ۔

ذرائع کے مطابق ضلع کونسل اٹک نے عوام الناس کے مفاد میں دو مرتبہ بذریعہ اخبار اشتہار جاری کر کے خبردار کیا ہے کہ مذکورہ سکیم غیر قانونی ہے اور اس کا کسی قسم کا کوئی این او سی یا لے آؤٹ پلان منظور شدہ نہیں ہے۔

ضلع کونسل اٹک کی جانب سے اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات بھی کیے گئے ہیں:

اے ڈی سی آر اٹک کو باضابطہ لیٹر جاری کیا گیا ہے* کہ مذکورہ موضع جات کے خسرہ جات کو فوری طور پر بلاک کیا جائے تاکہ خرید و فروخت نہ ہو سکے۔
نیب اسلام آباد کو بھی تحریری طور پر آگاہ کیا گیا ہے* کہ یہ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیم عوام سے پیسے بٹور رہی ہے، اس کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو بھی لیٹر لکھا گیا ہے* کہ یہ گروہ سوشل میڈیا پر غیر قانونی پلاٹس کی خرید و فروخت کی تشہیر کر رہا ہے جس سے سادہ لوح عوام کو لوٹا جا رہا ہے۔


باوجود اس کے کہ سکیم غیر قانونی ہے، موقع پر گزشتہ ایک سال سے ڈویلپمنٹ کا کام زور و شور سے جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سکیم کا ہیڈ آفس ماڈل ٹاؤن فیز ٹو، جی ٹی روڈ پر مکہ پلازہ، جاپان الیکٹرونکس کے ساتھ قائم کیا گیا ہے جہاں فائلوں کی خرید و فروخت کا دھندہ عروج پر ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی غیر منظور شدہ سکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والے صارفین کا پیسہ کسی بھی وقت ڈوب سکتا ہے۔ عوام الناس سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی ہاؤسنگ سکیم میں سرمایہ کاری سے قبل ضلع کونسل اٹک سے اس کے قانونی ہونے کی تصدیق ضرور کر لیں۔ ضلع کونسل اٹک کے آفیسر سے موقف کے لیے رابطہ کیا تو انہوں حوالے سے بتایا بلکہ اس بات کی تصدیق کی کہ شاہین انکلیو کی کو تا حال کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اس حوالے سے ہمیں لاہور سے رپورٹ طلب کی گئی تھی ہم نے اس کے جواب میں تفصیل سے جواب دے دیا گیا ہے جبکہ شاہیں انکلیو کے مالکان سے بھی موقف کے لیے رابطہ کیا گیا انہوں نے فون نہیں سنا جس کی وجہ سے ان کا موقف سامنے نہ آ سکا ہے البتہ کچھ پراپرٹی ڈیلر جو کہ اپنے آپ کو ان سے وابستگی ظاہر کر رہے تھے ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس منظوری موجود ہے جبکہ متعلقہ ادارہ اس حوالے سے واضع کر چکا ہے کہ اس کی کوئی قانونی حثیت نہیں ہے اس حوالے سے مزید انکشافات بھی کیے جائیں

اپنا تبصرہ لکھیں