وفاقی دارالحکومت کے سائے میں ہاؤسنگ مافیا: آخر خاموشی کب تک؟

تحریر: چوہدری جاوید بھاگٹ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ہمیشہ سے پاکستان کا منظم، محفوظ اور قانون کے تابع شہر سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہاں قائم ادارے، طاقتور بیوروکریسی، حساس دفاتر اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس تاثر کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ شاید یہاں کسی بڑے فراڈ، قبضہ مافیا یا عوامی استحصال کی گنجائش نہیں ہوگی۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اسلام آباد کے گرد و نواح، خصوصاً اٹک، حسن ابدال، فتح جنگ، روات اور دیگر ملحقہ علاقوں میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران ایسی سینکڑوں جعلی اور متنازع ہاؤسنگ سوسائٹیز وجود میں آئیں جنہوں نے لاکھوں فائلیں فروخت کر کے اربوں روپے سمیٹے، مگر ریاستی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔

یہ سوال اب شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آخر یہ سب کچھ کس کی سرپرستی میں ہوتا رہا؟ کیا متعلقہ اداروں کو علم نہیں تھا کہ اسلام آباد کے پوش سیکٹرز ایف-6، ایف-7، ایف-10، ایف-11، جی-11 اور بلیو ایریا میں قائم لگژری دفاتر میں بیٹھے افراد عوام کو ایسے منصوبے فروخت کر رہے ہیں جن کے پاس نہ زمین تھی، نہ این او سی، نہ قانونی حیثیت اور نہ ہی کسی قسم کی منظوری؟

یہ صرف سادہ غفلت نہیں بلکہ ایک ایسا منظم نظام محسوس ہوتا ہے جس میں مبینہ طور پر طاقتور عناصر، بعض سرکاری اہلکار، پراپرٹی ڈیلرز اور بااثر کاروباری شخصیات شامل رہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ متعدد اضلاع خصوصاً ضلع اٹک کی انتظامیہ کی جانب سے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو کئی بار خطوط لکھے گئے، جعلی اور غیر قانونی سوسائٹیوں کی نشاندہی کی گئی، حتیٰ کہ بعض دفاتر کی تفصیلات بھی فراہم کی گئیں، مگر کارروائی صرف “مارکنگ” تک محدود رہی۔ فائلیں ایک ٹیبل سے دوسری ٹیبل منتقل ہوتی رہیں، لیکن عوام کو لوٹنے والوں کے خلاف عملی کارروائی نہ ہو سکی۔

اس خاموشی کی قیمت کس نے ادا کی؟ وہ اوورسیز پاکستانی جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی کمائی پاکستان میں گھر کے خواب کیلئے بھیجی۔ وہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین جنہوں نے پنشن اور گریجویٹی کے پیسے لگا کر اپنے خاندان کیلئے ایک محفوظ چھت کا خواب دیکھا۔ وہ متوسط طبقہ جس نے قسطوں پر پلاٹ خریدنے کی امید میں اپنی جمع پونجی ان سوسائٹیوں کے حوالے کر دی۔ آج ان میں سے ہزاروں لوگ عدالتوں، تھانوں اور دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں، جبکہ فراڈ کرنے والے افراد نہ صرف آزاد گھوم رہے ہیں بلکہ مختلف کاروباری و تجارتی چیمبرز کے عہدوں پر بھی براجمان ہیں۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اسلام آباد میں کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کے تحت درجنوں سوسائٹیز رجسٹرڈ ہیں، مگر ان کے اندرونی معاملات، انتخابات اور مالی شفافیت پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ کئی جگہ ایک ہی گروپ برسوں سے انتظامیہ پر قابض ہے۔ صدر، سیکرٹری اور دیگر عہدے مخصوص حلقوں کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔ عام ممبران صرف فائل نمبر تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں جبکہ اندرونی سطح پر اربوں روپے کے لین دین ہوتے ہیں۔ بعض ایسے افراد بھی دیکھے گئے جو کبھی معمولی ملازم تھے، مگر چند برسوں میں قیمتی گاڑیوں، فارم ہاؤسز اور لگژری زندگی کے مالک بن گئے۔ سوال یہ ہے کہ یہ دولت کہاں سے آئی؟

سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اور ریگولیٹری ادارے اکثر کارروائی اس وقت کرتے ہیں جب اربوں روپے ڈوب چکے ہوتے ہیں۔ پہلے غیر قانونی ہاؤسنگ سکیمیں پنپتی ہیں، پھر اشتہارات چلتے ہیں، دفاتر کھلتے ہیں، فائلیں فروخت ہوتی ہیں، عوام لٹتے ہیں، اور بعد میں ایک نمائشی آپریشن کر کے چند دفاتر سیل کر دیے جاتے ہیں۔ کیا ریاست کا کردار صرف بعد از حادثہ کارروائی تک محدود رہ گیا ہے؟

اگر آج بھی ایف-6، ایف-7، ایف-10، ایف-11، جی-11 اور بلیو ایریا جیسے علاقوں میں متنازع اور غیر قانونی ہاؤسنگ منصوبوں کے دفاتر کھلے عام کام کر رہے ہیں تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے قتل کے مترادف ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت، وزارت داخلہ، سی ڈی اے، ضلعی انتظامیہ، ایف آئی اے، نیب اور حساس ادارے مشترکہ طور پر ایک جامع آپریشن کریں۔ ایسے تمام دفاتر فوری سیل کیے جائیں جو غیر قانونی یا بغیر این او سی منصوبوں کی مارکیٹنگ کر رہے ہیں۔ عوام کو دھوکہ دینے والے عناصر کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں، ان کے بینک اکاؤنٹس اور اثاثے منجمد کیے جائیں، جبکہ بیرون ملک پاکستانیوں کو لوٹنے والے نیٹ ورکس کو قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جائے۔

اسی طرح کوآپریٹو سوسائٹیز کے نظام میں بھی شفاف اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ہر سوسائٹی کا سالانہ فرانزک آڈٹ، ڈیجیٹل ریکارڈ، اوپن ممبرشپ ویری فکیشن اور آزادانہ انتخابات یقینی بنائے

اپنا تبصرہ لکھیں