امن و امان کے قیام کیلئے حکومت کا بڑا فیصلہ

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس، قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کرپشن پر زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ

اسلام آباد: Shehbaz Sharif کی زیر صدارت امن و امان کی مجموعی صورتحال اور وزارت داخلہ کے امور سے متعلق ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں داخلی سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی، اصلاحاتی اقدامات اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ Ishaq Dar، وفاقی وزیر داخلہ Mohsin Naqvi، وفاقی وزیر Ahsan Iqbal، وفاقی وزیر Muhammad Aurangzeb، وزیر مملکت Talal Chaudhry سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ داخلی سلامتی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے وزارت داخلہ کے ماتحت اداروں خصوصاً Federal Investigation Agency، اسلام آباد پولیس، National Cyber Crime Investigation Agency، فیڈرل کانسٹیبلری اور دیگر اداروں میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تمام بھرتیاں مکمل شفافیت اور خالص میرٹ کی بنیاد پر یقینی بنائی جائیں تاکہ اداروں میں پیشہ ورانہ صلاحیت اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اجلاس میں جدید سکیورٹی چیلنجز، سائبر کرائم، دہشت گردی اور منظم جرائم سے نمٹنے کے لیے اداروں کی پیشہ ورانہ تربیت اور تکنیکی استعداد بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اہلکاروں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ بہترین آلات، جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ سازوسامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ وہ مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔

اجلاس کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے Federal Investigation Agency، اسلام آباد پولیس، National Cyber Crime Investigation Agency، فیڈرل کانسٹیبلری، Capital Development Authority اور وزارت داخلہ کے ماتحت دیگر اداروں کی کارکردگی اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں زیر تعمیر جدید جیل رواں سال ستمبر تک فعال کر دی جائے گی، جس سے وفاقی دارالحکومت میں قیدیوں کے نظم و نسق اور سکیورٹی انتظامات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم نے اجلاس کے اختتام پر ہدایت کی کہ تمام ادارے قومی سلامتی، قانون کی حکمرانی اور عوامی تحفظ کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں اور ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ عوام کو محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم کیا

اپنا تبصرہ لکھیں