گلگت بلتستان اسمبلی میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور قائدِ ایوان کا انتخاب آج متوقع!
گلگت: گلگت بلتستان اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر 3 بجے طلب کیا گیا ہے، جس میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور قائدِ ایوان کا انتخاب کیا جائے گا۔
اس سے قبل اتوار کے روز نومنتخب 30 اراکینِ اسمبلی نے حلف اٹھایا تھا۔ اسمبلی اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ نے اراکین سے حلف لیا اور اجلاس آج تک ملتوی کر دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) گلگت بلتستان اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے پیپلز پارٹی کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔
سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان وفاقی سطح کی طرز پر پاور شیئرنگ کا معاہدہ طے پا چکا ہے، جس کے تحت دونوں جماعتیں مل کر واضح اکثریت حاصل کر لیں گی۔
انتخابی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی نے 11 نشستیں حاصل کی ہیں، مسلم لیگ (ن) 6 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی نے 4 نشستیں جیتی ہیں۔ پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں سمیت دیگر جماعتوں کی بھی اسمبلی میں نمائندگی موجود ہے، تاہم تین حلقوں کے نتائج عدالتی کارروائی کے باعث تاحال جاری نہیں کیے جا سکے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے امجد حسین کو وزیرِ اعلیٰ کے لیے نامزد کیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں کی حمایت سے حکومت سازی آسان ہو جائے گی۔
اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد قائدِ ایوان کا انتخاب کیا جائے گا، جس کے بعد نئی حکومت کے قیام کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ اس پیش رفت سے انتخابات کے بعد کئی ہفتوں سے جاری سیاسی بے یقینی کے خاتمے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا یہ اتحاد وفاقی طرزِ سیاست کی عکاسی کرتا ہے اور خطے میں سیاسی استحکام لانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
گلگت بلتستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں بتائیں۔