سمندری آلودگی اور ساحلی تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق
اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر):
وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری سے گورنر سندھ سید نہال ہاشمی نے ملاقات کی، جس میں سمندری آلودگی، ساحلی تحفظ، ماحولیاتی مسائل اور پائیدار بحری ترقی سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سمندری آلودگی کے خاتمے اور ساحلی علاقوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے کہا کہ کراچی میں میرین پولیوشن کنٹرول بورڈ کا اجلاس جلد طلب کیا جائے گا تاکہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مؤثر حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ کچرے کے مؤثر انتظام، ری سائیکلنگ کے فروغ اور ماحول دوست پالیسیوں کے نفاذ سے سمندری آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ سمندری آلودگی ماہی گیری کے شعبے اور ساحلی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، جس کے تدارک کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مینگروز کے جنگلات اور ساحلی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو بھی وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
ملاقات کے دوران سرکلر اکانومی، پائیدار بحری ترقی اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے نہ صرف سمندری وسائل کا تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے بلکہ ساحلی علاقوں کی معاشی ترقی کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔
گورنر سندھ سید نہال ہاشمی نے اس موقع پر کہا کہ کچرے کا مؤثر انتظام اور سمندری وسائل کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی سرگرمیوں کے فروغ سے ساحلی علاقوں میں ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق سمندری آلودگی اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان تعاون انتہائی اہم ہے، جس سے ساحلی علاقوں کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
کیا سمندری آلودگی کے خاتمے کے لیے مزید سخت اقدامات ہونے چاہئیں؟اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔