قومی احتساب بیورو (نیب) کے دفاتر کے باہر ایک وسیع کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے متاثرین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر “دی ریزیڈینسیا ” کے متاثرین کا ایک بہت بڑا ہجوم بھی موجود تھا، جنہوں نے سوسائٹی انتظامیہ کی عدم ادائیگی اور ترقیاتی کام نہ ہونے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
متاثرین کے مطابق دی لائف ریزیڈینسیا سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 5,000 سے زائد ہے، جن میں سے تقریباً 1300 سے 1500 افراد نے نیب میں باقاعدہ درخواستیں جمع کروا رکھی ہیں۔
متاثرین کے اہم خدشات اور مطالبات:

7 سال سے ترقیاتی کام بند: متاثرین نے بتایا کہ 7 سال گزرنے کے باوجود سوسائٹی انتظامیہ نے سائٹ پر کوئی ترقیاتی کام (Development) نہیں کیا۔
این او سی اور ایل او پی کی عدم موجودگی: سوسائٹی کے پاس نہ تو این او سی (NOC) ہے اور نہ ہی ایل او پی (LOP) کی منظوری موجود ہے۔
سرکاری لسٹوں سے نام غائب: دی لائف ریزیڈینسی کی زمین تین مختلف موضع جات (فتح جنگ، اٹک اور راولپنڈی) پر مشتمل ہے، لیکن ڈسٹرکٹ اٹک کی رجسٹرڈ نجی سوسائٹیوں کی لسٹ میں اس کا نام شامل نہیں ہے۔
لائف سیونگز کا ضیاع: شہریوں نے اپنی تمام عمر کی جمع پونجی اس پراجیکٹ میں لگا دی ہے اور اب وہ شدید مالی و ذہنی اضطراب کا شکار ہیں۔

متاثرین نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سوسائٹی کو فوری طور پر قانونی جانچ پڑتال اور لسٹوں میں شامل کر کے کارروائی کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ صدرِ پاکستان اور وزیراعظمِ پاکستان سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں اور غریب شہریوں کی لوٹی گئی جمع پونجی کی برآمدگی (Recovery) کو یقینی بنا کر ان کا حق ان کے حوالے کریں