ی ایچ اے راولپنڈی میں مبینہ ٹینڈر بے ضابطگیوں کا معاملہ، نور بلڈرز کے ورک آرڈرز اور سرکاری وسائل کے استعمال پر سوالات

راولپنڈی: پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) راولپنڈی میں نرسریوں اور دیگر ہارٹیکلچر کے کاموں کے لیے جاری ہونے والے ٹینڈرز اور ورک آرڈرز کے حوالے سے مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں، جہاں ایک نجی کنٹریکٹر کی کمپنی نور بلڈرز کو طویل عرصے سے کام ملنے اور سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال کے دعوے نے متعدد سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نور بلڈرز کے نام سے کام کرنے والے کنٹریکٹر ملک شبیر کو پی ایچ اے راولپنڈی کی مختلف نرسریوں اور ہارٹیکلچر سے متعلق کاموں کے ورک آرڈرز گزشتہ کئی برسوں سے ملتے رہے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ سلسلہ دس سال سے زائد عرصے پر محیط ہے، جس کے باعث ٹینڈرز کے عمل، مسابقتی بولی اور مختلف ٹھیکیداروں کو مواقع فراہم کرنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نور بلڈرز کے ریکارڈ میں درج پتے کے حوالے سے بھی تحفظات سامنے آئے ہیں۔ مبینہ طور پر کمپنی نے چک شہزادہ کا ایک پتہ درج کر رکھا ہے جس کے حقیقی ہونے کے بارے میں شکایات موجود ہیں۔ تاہم اس امر کی آزادانہ اور سرکاری ریکارڈ سے تصدیق ضروری ہے کہ کمپنی مذکورہ پتے پر واقعی موجود ہے یا نہیں اور ٹینڈر میں شرکت کے لیے اس کا پتہ اور دیگر دستاویزات قواعد و ضوابط کے مطابق ہیں یا نہیں۔

مزید تشویشناک دعویٰ یہ سامنے آیا ہے کہ پی ایچ اے کی نرسریوں میں جن کاموں کے لیے نجی کنٹریکٹر کو ورک آرڈر جاری کیا جاتا ہے، ان کاموں میں استعمال ہونے والا بعض سامان، پودے، مشینری اور دیگر سہولیات مبینہ طور پر خود پی ایچ اے کی ملکیت یا زیر استعمال وسائل سے فراہم ہوتی ہیں، جبکہ کام کی تکمیل کے بعد تیار ہونے والے بل نور بلڈرز کے نام سے جمع کرائے جاتے ہیں۔

اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ محض ٹینڈر کے اجرا تک محدود نہیں رہتا بلکہ سرکاری وسائل کے استعمال، ورک آرڈر کی شرائط، پیمائش، بلنگ، ادائیگیوں اور ٹھیکیدار کو فراہم کیے جانے والے وسائل کے مکمل نظام کی جانچ کا متقاضی بن جاتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ ریکارڈ میں اس بات کی جانچ ضروری ہے کہ ہر ورک آرڈر کے تحت کن کاموں کی ذمہ داری کنٹریکٹر پر عائد کی گئی تھی، سامان اور مشینری فراہم کرنے کی ذمہ داری کس کی تھی، پودوں اور دیگر اشیا کی خریداری کس مد سے ہوئی اور بلوں کی ادائیگی کس بنیاد پر کی گئی۔

اسی طرح یہ بھی معلوم کیا جانا ضروری ہے کہ نور بلڈرز کو گزشتہ کئی برسوں کے دوران کتنے ٹینڈرز اور ورک آرڈرز جاری کیے گئے، ان کی مجموعی مالیت کتنی تھی، دیگر ٹھیکیداروں نے کتنی مرتبہ حصہ لیا اور کیا ہر مرتبہ ٹینڈرنگ کا عمل کھلے اور شفاف مسابقتی طریقہ کار کے تحت مکمل کیا گیا۔

ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ پی ایچ اے کے بعض افسران اور اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت کے بغیر اتنے طویل عرصے تک ایک ہی کنٹریکٹر کو کام ملنا اور سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال کا سلسلہ جاری رہنا ممکن نہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

معاملے کی حساسیت کے پیش نظر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پی ایچ اے راولپنڈی کی جانب سے نور بلڈرز کو جاری کیے گئے تمام ٹینڈرز، ورک آرڈرز، معاہدے، ٹینڈر فائلز، بڈنگ دستاویزات، پیمائش کی کتابیں، بلز، ادائیگیوں کا ریکارڈ اور کمپنی کے رجسٹرڈ پتے کی تصدیق کرائی جائے۔

شہری و حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں سرکاری وسائل کو نجی کنٹریکٹر کے کام میں استعمال کرنے، جعلی یا غیر مؤثر پتے پر کمپنی چلانے، ٹینڈر قوانین کی خلاف ورزی یا کسی قسم کی ملی بھگت کے شواہد ملتے ہیں تو ذمہ دار افسران اور ٹھیکیدار کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب پی ایچ اے راولپنڈی کا مؤقف اس معاملے کی مکمل تصویر سامنے لانے کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔ ادارے سے یہ بھی وضاحت طلب کی جا سکتی ہے کہ نور بلڈرز کو گزشتہ دس سال سے زائد عرصے کے دوران کتنے ورک آرڈرز دیے گئے، ان کی مجموعی مالیت کیا ہے، ٹینڈرز کس طریقہ کار کے تحت جاری ہوئے اور کیا نرسریوں کے کاموں میں پی ایچ اے کی مشینری، پودے یا دیگر سرکاری وسائل کنٹریکٹر نے اتحمال کیے

اپنا تبصرہ لکھیں