ٹک ٹاک سے قتل تک: پاکستانی خواتین ٹک ٹاکرز کے گرد بڑھتا ہوا خطرہ

سوشل میڈیا پر چند سیکنڈ کی ویڈیو، لاکھوں فالوورز اور شہرت بظاہر کامیابی کی علامت ہے، مگر پاکستان میں متعدد خواتین ٹک ٹاکرز کے قتل کے واقعات نے ایک انتہائی تشویشناک سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا سوشل میڈیا پر نمایاں ہونے والی خواتین اب ایک نئے قسم کے خطرے کی زد میں ہیں؟

تازہ ترین واقعہ ٹیکسلا میں پیش آیا، جہاں ایک خاتون ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گلمنہ کو مبینہ طور پر موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ مقتولہ کے والد کے مطابق ان کی بیٹی کے ٹک ٹاک پر 13 لاکھ سے زائد فالوورز تھے جبکہ پولیس کو دی گئی درخواست میں مبینہ طور پر مالی لین دین اور دھمکیوں کا پہلو سامنے آیا ہے۔ فائرنگ کے واقعے میں مقتولہ کی بہن کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔

یہ پہلا واقعہ نہیں۔

اسلام آباد میں 17 سالہ ٹک ٹاک اسٹار ثناء یوسف کو جون 2025 میں گھر میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ پولیس تحقیقات میں ابتدائی طور پر ملزم کی جانب سے بار بار مسترد کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی رنجش اور ناپسندیدہ پیش قدمی کا پہلو سامنے آیا۔ بعد ازاں عدالت نے ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنائی۔

اس کیس نے ایک اور خطرناک حقیقت بھی سامنے لائی: ایک خاتون کا کسی مرد کی پیش قدمی مسترد کرنا بھی بعض اوقات اس کی جان کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ثناء یوسف کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کی جانب سے مقتولہ ہی کو موردِ الزام ٹھہرانے کا رجحان بھی سامنے آیا، جس پر خواتین کے حقوق کے کارکنوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔

جنوری 2025 میں کوئٹہ میں ایک 15 سالہ لڑکی حرا کو اس کے والد نے مبینہ طور پر ٹک ٹاک ویڈیوز کے معاملے پر قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ ابتدائی طور پر واقعے کو اجنبی حملہ آوروں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن بعد میں والد نے اعتراف جرم کیا۔

مارچ 2026 میں اسلام آباد میں ایک اور خاتون ٹک ٹاکر مبینہ طور پر اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل ہوئی۔ ابتدائی پولیس تحقیقات کے مطابق شوہر نے فائرنگ کے بعد خود کو بھی گولی مار لی۔ اس کیس میں بھی ابتدائی تحقیقات نے گھریلو تعلقات کو مرکزی زاویہ قرار دیا، نہ کہ خود ٹک ٹاک پلیٹ فارم کو۔

اصل سوال: کیا قاتل ٹک ٹاک کو بہانہ بناتے ہیں؟

ان واقعات کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے: ہر قتل کی وجہ ایک جیسی نہیں۔

کہیں مبینہ طور پر غیرت اور خاندان کی سوچ سامنے آتی ہے، کہیں محبت یا دوستی سے انکار، کہیں شوہر بیوی کا تنازع، اور تازہ ترین ٹیکسلا کیس میں پولیس کو دی گئی شکایت کے مطابق مبینہ مالی لین دین اور دھمکیوں کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

یعنی مسئلہ صرف ٹک ٹاک نہیں۔

اصل مسئلہ اس سے کہیں بڑا ہے:
خواتین کی آزادی، سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی، شہرت، مالی خودمختاری، مردانہ ملکیت کا تصور، آن لائن ہراسانی اور گھریلو یا ذاتی تنازعات جب ایک دوسرے سے جڑتے ہیں تو خطرہ جان لیوا شکل اختیار کرسکتا ہے۔

ان واقعات کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ بعض مقدمات میں ابتدائی طور پر ایک مختلف کہانی سامنے آتی ہے، لیکن تحقیقات آگے بڑھنے کے بعد محرک تبدیل یا واضح ہوتا ہے۔ کوئٹہ کے حرا کیس میں بھی ابتدائی طور پر اجنبی حملہ آوروں کا تاثر دیا گیا تھا، جبکہ بعد میں والد کے اعتراف نے معاملے کو بالکل مختلف رخ دے دیا۔

’’غیرت‘‘، ’’بدنامی‘‘ اور ’’سوشل میڈیا‘‘—قاتلانہ جواز؟

پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے بڑے مسئلے کو صرف سوشل میڈیا تک محدود کرنا بھی خطرناک ہوگا۔ انسانی حقوق سے متعلق حالیہ رپورٹس میں خواتین کے قتل، نام نہاد غیرت کے نام پر قتل، اغوا اور جنسی تشدد کے واقعات کی بڑی تعداد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایک حالیہ تجزیے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ خواتین کے قتل کے بعض واقعات کو مختلف وجوہات کے پردے میں چھپانے یا غلط انداز میں رپورٹ کرنے کا مسئلہ موجود ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہر ٹک ٹاکر خاتون کے قتل کو فوری طور پر ’’ٹک ٹاک کی وجہ سے قتل‘‘ قرار دینا بھی تحقیقاتی طور پر درست نہیں ہوگا۔

اصل سوال یہ ہونا چاہیے:

کیا مقتولہ کو پہلے سے دھمکیاں مل رہی تھیں؟
کیا پولیس کو کسی خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا؟
کیا آن لائن ہراسانی کی شکایات درج کرائی گئی تھیں؟
کیا قاتل کا مقتولہ سے پہلے سے کوئی تعلق تھا؟
کیا مالی لین دین یا بلیک میلنگ کا کوئی ریکارڈ موجود تھا؟
اور سب سے اہم—کیا قتل سے پہلے کسی ادارے نے خطرے کے اشاروں کو سنجیدگی سے لیا؟

عائشہ گلمنہ کے تازہ قتل سمیت ایسے تمام کیسز میں صرف قاتل کی گرفتاری کافی نہیں۔ تحقیقات کو یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ مقتولہ کو پہلے سے دھمکیاں مل رہی تھیں یا نہیں، موبائل فون، کال ریکارڈ، سوشل میڈیا پیغامات، مالی معاملات، سی سی ٹی وی اور ممکنہ دشمنی کے تمام پہلوؤں کو کس حد تک دیکھا گیا۔

ثناء یوسف کیس میں پولیس نے سی سی ٹی وی اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے ملزم تک رسائی حاصل کی اور بالآخر مقدمے میں عدالت سے سزائے موت کا فیصلہ بھی سامنے آیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید جرائم میں ڈیجیٹل فرانزک تحقیقات فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے

پاکستان میں خواتین ٹک ٹاکرز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ اگر ان کے خلاف دھمکیوں، ہراسانی، بلیک میلنگ اور تشدد کے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں تو کیا ریاست، پولیس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور خاندانوں نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کوئی مؤثر نظام بنایا ہے؟

ایک خاتون کا ٹک ٹاک بنانا جرم نہیں، لیکن کسی خاتون کی ڈیجیٹل شناخت کو اس کے خلاف استعمال کرنا ضرور جرم ہونا چاہیے۔
اور شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہر ایسے قتل کو صرف ایک ’’کرائم نیوز‘‘ سمجھ کر فائل بند نہ کی جائے بلکہ یہ سوال پوچھا جائے کہ قتل سے پہلے کیا ہوا تھا، کس نے دھمکی دی تھی، کس نے نظرانداز کیا تھا، اور کیا یہ قتل روکا جا سکتا تھآ

اپنا تبصرہ لکھیں