چیف کمشنر اسلام آباد نے کم از کم اجرت آرڈیننس 1961 کے تحت وفاقی دارالحکومت کی حدود میں صنعتی و تجارتی اداروں میں کام کرنے والے غیر ہنر مند بالغ اور قانون کے تحت کام کرنے والے نابالغ (Juvenile) کارکنوں کی کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار 700 روپے مقرر کر دی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ آف انڈسٹریز اینڈ لیبر ویلفیئر، آئی سی ٹی اسلام آباد کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن نمبر ADLW 8(20)-ICT/2024-934 کے مطابق نئی کم از کم اجرت کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے تحت صنعتی اداروں میں کام کرنے والے غیر ہنر مند بالغ کارکنوں کے لیے 8 گھنٹے کی یومیہ اجرت 1,565 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ 48 گھنٹے فی ہفتہ اور ہفتے میں ایک تعطیل کے حساب سے ماہانہ کم از کم اجرت 40,700 روپے ہوگی۔

اسی طرح قانون کے تحت صنعتی اداروں میں کام کرنے والے جُوونائل ورکرز کے لیے بھی 8 گھنٹے کی یومیہ کم از کم اجرت 1,565 روپے اور ماہانہ کم از کم اجرت 40,700 روپے مقرر کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی صورت میں 8 گھنٹے کام کرنے والے کارکن کی کم از کم اجرت 40 ہزار 700 روپے ماہانہ سے کم نہیں ہوگی۔
چیف کمشنر اسلام آباد کے حکم پر جاری نوٹیفکیشن کی نقول ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، اسلام آباد ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (IESSI)، چیف کمشنر کے پرنسپل سیکریٹری اور اسلام آباد کے تمام صنعتی و تجارتی اداروں کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔
محکمہ محنت و صنعتی بہبود نے متعلقہ اداروں کو نئی مقرر کردہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کر دی